رات کا اذکار

سوتے وقت ان اذکار کی پابندی لازمی کریں ,حدیث مبارکہ میں بھی ان اذکار کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئ ہے,اذکار ادا کرنے کا طریقہ درج ذیل ہے..
اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اکٹھا کرے

پھر سورۃ اخلاص، سورۃ فلق اور سورۃ الناس پڑھ کر
ان پر پھونک مارے پھر سر، چہرے اور جسم کے سامنے سے شروع کرتے ہوئے سارے بدن پر پھیرے اس طرح تین مرتبہ کرے۔
صحیح بخاری:5017

اَعُوْذُ بِااللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝

قُلْ هُوَ اللَّهُ أحَدٌ ۝ اللَّهُ الصَّمَدُ ۝ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ۝ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ۝

ترجمہ:
اے نبی ﷺ کہہ دیجئے وہ ﷲ ایک ہے، ﷲ بی بےنیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا، اور نہ کبھی کوئی ایک اس کے برابر کا ہے۔”
سورة الإخلاص

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۝*
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۝ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ۝ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ۝ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ۝ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ۝

ترجمہ:*
"اے نبی ﷺ کہہ دیجئے میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی، اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھاجائے، اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شرسے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے۔"
سورۃ الفلق

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۝

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۝ مَلِكِ النَّاسِ ۝ إِلَهِ النَّاسِ ۝ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ۝ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ۝ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ۝

ترجمہ:
“اے نبی ﷺ کہہ دیجئے میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں، لوگوں کے مالک کی، لوگوں کے معبود کی، وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے(شیطان) کے شرسے، جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔”
سورۃ الناس

جو شخص سوتے وقت آیت الکرسی پڑھ لے اس پر اللہ تعالی کی طرف سے ایک نگران مقرر کر دیا جاتا ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں آسکتا۔

صحیح بخاری:2311، 5010آیۃ الکرسی 1⃣ مرتبہ

اَعُوْذُ بِااللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم

اللّٰهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيم

ترجمہ:

"ﷲ وہ ذات ہے جس کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیـــــں ہمیشہ زندہ رہنے والا اور(سب کو)قائم رکھنے والاہے، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سفارش کرسکے۔ جو لوگوں کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے سب کو جانتا ہے۔ لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیـــــں کرسکتے مگر جو وہ چاہے اسی کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیـــــں ، اور وہ بلند ہے عظمت والا ہے۔"

البقره:255

ابو مسعود بدری رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- ” جس شخص نے سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات رات کو پڑھیں تو وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی۔

صحیح بخاری:5009، صحیح مسلم:807

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ۝ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ۝

ترجمہ:-

“رسول ﷺ پر ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف ﷲ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے، یہ سب ﷲ تعالی اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے،اس کے رسولوں میں سے ہم کسی میں تفریق نہیـــــں کرتے، انھوں نے کہا ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں، اے ہمارے رب! ہمیں تیری طرف ہی لوٹناہے۔ ﷲ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیـــــں دیتا جو نیکی وہ کرے وہ اس کے لیے اور جو برائی کرے وہ اس کے خلاف ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہوتو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پروہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالاتھا، اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہ ہواور ہم سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔”

البقرۃ285-2

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-
“جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر سے اٹھے اور دوبارہ سونے کے لیے آئے تو چادر سے بستر کو تین مرتبہ جھاڑلے، پھر بسم ﷲ کہے، کہیں اس پر کوئی نقصان دہ مخلوق نہ آکر بیٹھ گئی ہو اور جب لیٹے تو یہی دعا پڑھے۔” ⬇

بِاسْمِكَ رَبِّىْ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ

ترجمہ:-*

"اے میرے رب میں نے تیرے نام کے ساتھ اپنا پہلو رکھا اور تیرے نام کے ساتھ ہی اسے اٹھاؤں گا، اگر تو میری جان کو روک لے تو اس پر رحم فرما، اور اگر تونے اسے چھوڑ دیا، تو اس کی حفاظت اس طرح فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔"

صحیح بخاری:63

اللهُمَّ اِنَّكَ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا، وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ*
ترجمہ:-

"اے ﷲ! یقینا تو نے ہی میری جان کو پیدا کیا ہے اور تو ہی اسے فوت کرے گا، تیرے لئے ہی اس کا مرنا اور جینا ہے اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرما، اور اگر تو اسے ماردے تو اسے بخش دے، اے ﷲ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔"
صحیح مسلم:2712، مسند احمد:5502*
❀⊱┄┄┄┄┄┄┄┄┄┄┄⊰❀

جب آپ ﷺ سونے کا ارادہ فرماتے تو دائیں ہتھیلی کو اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور پھر یہ الفاظ کہتے۔ ⬇{تین مرتبہ}

اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ، عِبَادَكَ
ترجمہ:-*

“اے ﷲ! مجھـــــــے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔”

سنن ابی داؤد:5045، مسنداحمد:26465*

بِاسْمِكَ اللهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا
ترجمہ:-*

اے ﷲ! تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا ہوں اور جیتا ہوں۔

صحیح بخاری:6312،6324*

جو شخص یہ الفاظ بستر پر لیٹے ہوئے پڑھے لے تو یہ اس کے لیے ایک خادم سے بہتر ہیں۔

33 مرتبہ۔
سُبْحَانَ الله
ﷲ پاک ہے۔

33مرتبہ
اَلْحَمْدُ الله
تمام تعریفات ﷲ کے لیے ہیں۔

34مرتبہ
اَللهُ اَكْبَرُ
ﷲ سب سے بڑا ہے۔

صحیح بخاری:3705، 6318، صحیح مسلم:2727

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِي*
ترجمہ:-*

“تمام تعریفات ﷲ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا، ہمیں کافی ہوا، اور ہمیں پناہ دی، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جنہیں نہ ہی کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ ہی کوئی پناہ دینے والا۔”

صحیح مسلم:2715
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اگر کوئی شخص یہ کلمات پڑھنے کے بعد فوت ہوگیا تو وہ فطرت پر فوت ہوگا۔”

اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَا وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ

ترجمہ:-*
“اے ﷲ میں نے اپنی جان کو تیرا فرمانبردار بنالیا، اپنا کام تیرے سپرد کردیا، اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کرلیا، اپنی کمر تیرے لیے جھکادی، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، نہ تجھ سے بھاگ کر جانے کی کوئی پناہ ہے نہ راہ نجات ہے مگر تیری طرف ہی، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تونے نازل کیا اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔”
صحیح بخاری:6313

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: