ایک بچہ قبر کیا کہہ رہا تھا؟

‏یونیورسٹی میں ایک پروفیسر تھے جو اپنی کلائی میں لیڈی گھڑی باندھتے تھے، جسے دیکھ سب طلباء کی ہنسی چھوٹ جایا کرتی تھی، ایک عرصے بعد وائس چانسلر کے ذریعے جب ہم پر انکشاف ہوا کہ پروفیسر صاحب جو زنانہ گھڑی پہنتے ہیں وہ ان کی فوت شدہ بیوی کی ہے۔

اس واقعے سے سیکھا کہ ‏”کچھ دل بِنا بولے محبوب کی رحلت کے بعد بھی اَلم اور درد محسوس کرتے ہیں۔” ۔۔ ایک دفعہ ہسپتال میں کسی مریض کی عیادت کے لیے جانا ہوا، کوریڈور میں چلتے ہوئے ایک جواں سال لڑکی کی وِگ (بال) گر گئی وہاں موجود تمام لوگ اس پر ہنسنے لگے، آگے بڑھ کر جب ایک دوسری عورت نے اس کی مدد کی ‏تو وہ روتے ہوئے کہنے لگی اِس میں میرا کوئی قصور نہیں “کینسر” نے میرے بال لے لیے اس لیے مجھے یہ آرٹیفشل وِگ لگانا پڑتی ہے۔۔

اسی طرح قبرستان میں دس سالہ بچے کو ایک قبر پر کھڑا کچھ کہتے ہوئے سنا جو کہہ رہا تھا “ماما اٹھو میرے ساتھ سکول چلو استاد مجھے تمام لڑکوں کے ‏سامنے مارتا اور کہتا ہے کہ تمہاری ماں کتنی سست اور کاہل ہے جو تمہاری پڑھائی کا خیال نہیں رکھتی۔۔۔ کسی کی ظاہری حالت دیکھ کر ہمیں قطعا مذاق یا کسی قسم کا بھونڈا ری ایکشن نہیں دینا چاہیے۔

ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اندر ہزار دُکھ چھپائے ہوئے ہو جس کا ہمیں علم نہ ہو۔۔۔ ‏بولنے سوچنے اور ری ایکشن دینے سے پہلے اگلے بندے کی فیلنگز کا خیال رکھیے۔۔۔ بلاشبہ بعض باتیں انسان کو قتل کر دیتی ہیں۔۔۔ بدگمانی بہت معاملات خراب کرتی ہے عربی میں ایک مقوله ہے “الكلمة كالسيف ذات حدين” زبان سے نکلنے والے الفاظ دو دھاری تلوار کی طرح ہوتے ہیں۔ احتیاط کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: