آپ ﷺ کی نرمی وشفقت

آپ ﷺ کی نرمی وشفقت

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بڑے خوش اخلاق تھے.

ایک روز مجھے کسی ضرورت کے لئے بھیجا، میں نےکہا اللہ کی قسم نہیں جاؤں گا اور میرے دل میں تھا کہ جو حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے اس کے لئے ضرور جاؤں گا (حضرت انس رضی اللہ عنہ اس وقت بچے تھے اور حضور ﷺ کی خدمت میں ہی رہا کرتے تھے) پھر میں نکلا اور میرا گزر کچھ بچوں پر ہوا جو بازار میں کھیل رہے تھے، ( میں وہاں رُکا ہوا تھا ) اتنے میں رسول اللہ ﷺ نے اچانک میرے سر کے بال پیچھے سے پکڑے، جب میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو حضور ﷺ کو ہنستا ہوا پایا۔

حضور ﷺ نے فرمایا! انس تم وہاں گئے تھے جہاں میں نے تم کو بھیجا تھا، میں نےکہا جاؤں گا یا رسول اللہ ﷺ! ( مشکوۃ : بحوالہ أسوہ رسول اکرم ﷺ : ص:۶۸)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور ﷺ کی خدمت اس وقت سے کی ہے جب میں آٹھ برس کا تھا، میں نے آپ ﷺ کی خدمت دس برس تک کی ۔۔۔ آپﷺ نے کبھی بھی مجھے کسی بات پر ملامت نہیں کیا، اگر اہل بیت میں سے کسی نے ملامت کیا بھی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو اگر تقدیر میں کوئی بات ہوتی ہے تو وہ ہو کر رہتی ہے۔

( مشکوۃ: بحوالہ أسوۂ رسول اکرم ﷺ: ص: ۶۸)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: