مدینۃ النبیﷺ شہروں کا سرتاج

محبوب کی جس شے سے بھی نسبت ہو وہ شے محبوب ہوجاتی ہے۔ شہر مدینہ کا نام زبان پر آتا ہے تو زبان پر صل علیٰ کے نغمے جاری ہو جاتے ہیں۔

دل بیقرار ہو جاتا ہے کہ یہی وہ قریہ محبوب ہے جسے حضور رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لازوال نسبت حاصل ہے۔
یہی وہ شہر دل نواز ہے جس کے در و دیوار لمس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فیض یاب ہوئے۔ جو ایسا بے مثال ہے کہ اس کے گلی کوچوں میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خرام ناز فرمایا۔

جو کبھی یثرب تھا مگر محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کی برکت سے طیبہ، دارالشفاء اور دارالامن بنا۔ جس کا ذرہ ذرہ آفتاب نبوت کے نور سے روشن ہے۔ جس کا گوشہ گوشہ خوشبوئے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مہک رہا ہے۔ یہاں گنبد خضریٰ ہے جو اہل ایمان کے دلوں کی دھڑکن اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔

جس کی محبت در حقیقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی محبت ہے۔ جس کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا۔ مدینہ منورہ شہر محبت، قریہ کرم و عطا، خطہ بخشش اور وسیلہ مغفرت ہے۔ ایک مقام پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
_
حَرَمُ اِبْرَاهيْم مَکَّةٌ وَحَرَمِیْ الْمَدِيْنَةُ.

’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حرم پاک مکہ ہے اور میرا حرم مدینہ شریف ہے‘‘۔ (طبرانی)

دوسرے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’یہ (مدینہ طیبہ) خراب لوگوں کو (ایسے) باہر پھینکتا ہے جیسے آگ لوہے کے میل کو پھینک دیتی ہے‘‘۔

اللہ رب العزت نے حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے ولادت و سکونت مکہ مکرمہ کی قسم کھائی اور جب مدینہ منورہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدم بوسی کی سعادت حاصل کی تو یہ شہر دلنواز بھی خود بخود اللہ تعالیٰ کی قسم کے دائرہ رحمت میں آگیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
_
لَا اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدْo وَاَنْتَ حِلٌّ م بِهٰذَا الْبَلَدْo.

(البلد، 90 : 1 – 2)

’’میں اس شہر (مکہ) کی قسم کھاتا ہوں (اے حبیب مکرم) اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شہر میں تشریف فرما ہیں‘‘۔ (ترجمہ عرفان القرآن)
_
پیکر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق خاک مدینہ سے کی گئی۔ مدینہ منورہ کو فتنہ دجال اور طاعون سے محفوظ رکھا گیا۔ یہ شہر کائنات ارض و سماوات کا نگینہ ہے۔ جہاں ہر لمحہ روح کونین جھوم اٹھتی ہے۔ ساکنان مدینہ سائبان کرم میں رہتے ہیں۔ تاجدار مدینہ نے فرمایا کہ

’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اہل مدینہ کو تکلیف دینا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ دوزخ میں اسے اس طرح پگھلائے گا جس طرح آگ میں سیسہ پگھلتا ہے یا جس طرح نمک پانی میں پگھلتا ہے‘‘۔
_
مدینہ منورہ میں موت کی بڑی فضیلت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خطہ نور میں وفات پانے والوں کو اپنی شفاعت کی نوید سنائی ہے۔ ارشاد فرمایا :

’’جس کے لئے ممکن ہو کہ وہ مدینہ منورہ میں موت کو گلے سے لگائے، اسے چاہئے کہ وہ یہاں موت کی سعادت حاصل کرے، اس لئے کہ جس کا انتقال مدینے میں ہوگا، میں اس کی شفاعت کروں گا‘‘۔
_
ہم سراپا زبان ہیں کہ اے خطہ محبوب خدا! اور اے شہر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! تو اللہ کا محبوب ترین شہر ہے۔

اے شہر نبی الحرمین! تو تمدن کی آبرو ہے، تو ثقافت کی جان ہے۔

اے شہر رحمۃ اللعالمین! انسان دوستی تیری ہی فصیلوں کی خشت اول ہے۔

اے شہر رسول ہاشمی! پوری کائنات میں تجھے یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ گنبد خضریٰ تیرے دامن منور میں موجود ہے،

اے شہر خاتم الانبیاء! تیری عظمتوں، رفعتوں اور بلندیوں کو سلام۔

تیرے مکینوں، باسیوں، مسکینوں، ضعیفوں، گداؤں اور فقیروں کی صداؤں کو سلام۔

تیرے در و دیوار، پاکیزہ ہواؤں، معطر فضاؤں، میدانوں، مرغزاروں اور پہاڑوں کو سلام۔


حوالہ :

صحيح بخاری، ابواب فضائل المدينة، ج : 2، ص : 666، رقم : 1780)
(صحيح مسلم، کتاب الحج، ج : 2، ص : 922، رقم : 1363)
(جامع الترمذی، ابواب المناقب، ج : 5، ص : 719، رقم : 3917)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: