آپ ﷺ کا ایثار و تحمل

ایک روایت میں ہے کہ زید بن شعنہ پہلے یہودی تھے، ایک مرتبہ کہنے لگے کہ نبوت کی نشانیوں میں سے کوئی ایسی نہیں رہی.

جس کو میں نے حضور ﷺ میں نہ دیکھ لیا ہو، سوائے دو علامات کے جس کے تجربے کی ابھی تک نوبت نہیں آئی تھی، ایک یہ کہ آپ ﷺ کا حلم آپ ﷺ کے غصے پر غالب ہو گا، دوسرا یہ کہ آپ ﷺ کے ساتھ کوئی جتنا بھی جہالت کا برتاؤ کرے گا آپ ﷺ کا تحمل اسی قدر زیادہ ہو گا، میں ان دونوں کے امتحان کا موقع تلاش کرتا رہا اور آمدورفت بڑھاتا رہا، ایک دن آپ ﷺ حجرے سے باہر تشریش لائے، حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ ایک بدوی شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میری قوم مسلمان ہو چکی ہے اور میں نے ان سے مسلمان ہو جانے کے بعد رزق کی فراوانی کا وعدہ کیا تھا، جبکہ ابھی قحط کی حا لت ہے، مجھے ڈر ہے کہیں وہ اسلام سے نہ پھر جائیں اگر ان کی کچھ اعانت کر دی جائے ؟ حضور ﷺ نے غالباً حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا انہوں نے عرض کیا حضور ﷺ اس وقت تو کچھ موجود نہیں، زید (جو اس وقت تک یہودی تھے اس منظر کو دیکھ رہے تھے ) کہنے لگے محمد (ﷺ) اگر آپ فلاں شخص کے باغ کی اتنی کھجوریں وقت معّین پر مجھے دے دیں تو میں پیشگی قیمت ادا کر دیتا ہوں اور وقت معیّن پر کھجور لے لوں گا، حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو نہیں ہو سکتا البتہ اگر باغ کی تعیین نہ کرو تو میں معاملہ کر سکتا ہوں، میں نے اسے قبو ل کر لیا اور اس کے بدلے کھجوروں کی قیمت اسّی مثقال سونا دے دیا، آپ ﷺ نے وہ سونا اس بدوی کے حوالے کر دیا اور اس سے کہا کہ انصاف کی رعایت رکھنا اور اس سے ان کی ضرورت پوری کرنا۔

زید کہتے ہیں جب کھجوروں کی ادائیگی میں دو تین دن باقی رہ گئے تھے، حضور ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کے ساتھ جن میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ ، عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، کسی جنازے کی نماز سے فارغ ہو کر ایک دیوار کے قریب تشریف فرما تھے، میں آیا اور آپ کے کرتے اور پلّو کو پکڑ کر نہایت ترش روئی سے کہا اے محمد ﷺ! آپ میرا قرض ادا نہیں کرتے، اللہ کی قسم میں تم سب اولاد عبد المطلب کو اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ بڑے نا دہندہ ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غصہ سے مجھے گھُورا اور کہا اے اللہ کے دشمن یہ کیا بک رہا ہے ؟ اللہ کی قسم اگر مجھے حضور ﷺ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا، لیکن حضور ﷺ نہایت سکون سے مجھے دیکھ رہے تھے اور تبسّم کے لہجے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ عمر! میں اور یہ ایک اور چیز کے زیادہ محتاج تھے، وہ یہ کہ مجھے حق ادا کرنے میں خوبی برتنے کو کہتے اور اس کو مطالبہ کرنے میں بہتر طریقے کی نصیحت کرتے، جاؤ اس کو لے جاؤ اور اس کا حق ادا کر دو اور جو تم نے اسے ڈانٹا ہے اس کے بدلے میں اس کو بیس صاع ( تقریباًٍ دو من کھجوریں ) زیادہ دینا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ مجھے لے گئے اور پورا مطالبہ اور بیس صاع کھجوریں زیادہ دیں، میں نے پوچھا کہ یہ بیس صاع کیسے؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا حضور ﷺ کا یہی حکم ہے، زید نے کہا عمر تم مجھے پہچانتے ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ میں زید بن شعنہ ہوں، انہوں نے کہا جو یہود کا بڑا علامہ ہے؟ میں نے کہا ہاں وہی ہوں، انہوں نے کہا اتنا بڑا آدمی ہو کر حضور ﷺ سے تم نے یہ کیسا سلوک کیا؟ میں نے کہا علامات نبوت میں سے دو علامتیں ایسی رہ گئی تھیں جن کے تجربے کا مجھے موقع نہیں ملا تھا، ایک یہ کہ آپ ﷺ کا حلم آپ کے غصے پر غالب ہو گا اور دوسری یہ کہ ان کے ساتھ جہالت کا برتاؤ ان کے حلم کو بڑھائے گا، اب ان دونوں کا بھی امتحان کر لیا اور اب میں آپ کو اپنے اسلام کا گواہ بناتا ہوں اور میرا آدھا مال امت محمدیہ پر صدقہ ہے، اس کے بعد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام لے آئے، اس کے بعد بہت سے غزاوات میں شریک ہوئے اور غزوۂ تبوک میں شہید ہوئے۔
( جمیع الفوائد ، خصائل نبوی :بحوالہ أسوۂ رسول اکرم ﷺ : ص: ۷۰)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضور ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا اور حضور ﷺ کی گردن مبارک میں سخت کناروں والی نجرانی چادر تھی، ایک اعرابی آیا اور اس چادر کو پکڑ کر حضور ﷺ کو کھینچنے لگا اور چادر کو سختی سے لپیٹنے لگا، حضرت انس فرماتے ہیں میں نے حضور ﷺ کی گردن مبارک کی طرف دیکھا تو آپﷺ کی گردن اس سخت چادر کی وجہ سے چھیل گئی تھی، اس کے بعد اس اعرابی نے کہا، اے محمد! ( ﷺ) اللہ کے اس مال میں سے جو آپ کے پاس ہے، اس میں سے مجھے دیجئے، حضور ﷺ نے اس کی طرف دیکھ کر تبسّم فرمایا اور مجھے اس کو دینے کا حکم دیا ۔
(مدارج النبوۃ : بحوالہ اسوۂ رسول اکرم ﷺ: ص:۷۱)

ایک دفعہ مکہ میں قحط پڑا ۔۔۔ لوگ ہڈیاں اور مردار کھانے پر مجبور ہوئے ابو سفیان جو ان دنوں حضور ﷺ کے سخت ترین دشمن تھے، آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا” محمد (ﷺ) تم لوگوں کو صلہ رحمی کی تعلیم دیتے ہو تمہاری قوم ہلاک ہو رہی ہے اپنے اللہ سے دُعا کیوں نہیں کرتے، ” اگرچہ قریش کی ایذا رسانیاں اور شرارتیں حد سے تجاوز کر چکی تھیں لیکن ابو سفیان کی بات سُن کر حضور ﷺ نے فوراً دُعا کے لئے دست مبارک اٹھا ئے، اللہ تعالٰی نے اس قدر بارش نازل فرمائی کہ جل تھل ہو گیا اور قحط دُور ہو گیا۔

( صحیح بخاری :تفسیر سور ہ ٔ دخان : بحوالہ أسوہ رسول اکرم ﷺ:ص:۷۱)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: