جب شراب خانوں میں مدارس کھولے گئے

موجودہ اسپین کے جس گرجا گھر کی دیوار کو کھرچا جائے تو نیچے سے قرآن کی آیات و احادیث و عربی عبارات لکھی ہوئی ظاہر ہوں گی

مسلمانوں نے یورپ کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کے اجالے دیئے
لیکن اندھے اور جاہل یورپ نے
جب ہاتھ پڑا تو مسلمانوں کی نسل کشی کی
مساجد کو شہید کیا,مساجد کی دیواروں سے نقوشِ اسلامیہ مٹا کر چرچ بنا ڈالے
مجھے ایک یورپ میں موجود دوست نے بتایا کہ
میں ایک گلی سے گزرتا تھا تو وہاں سے خوشبو آتی تھی
اور ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی
معلوم نہیں کیوں

پھر مجھے کسی نے بتایا کہ یہ جو چرچ ہے نا
یہ کبھی مسجد ہوا کرتا تھا
لیکن ھم بے بس ہیں کیا کر سکتے ہیں

قرطبہ” غرناطہ” اشبیلہ” کے لوگ آج بھی صدیوں سے ظاہری عیسائی مگر اندر سے مسلمان ہیں

اگرچہ ان پر نماز روزے پردے اور قرآن رکھنے پڑھنے کی پابندی تھی مگر انہوں نے اپنے اندر سے ایمان کی شمع بجھنے نہیں دی

اندر سے ایماں کی حرارت کو سرد نہیں ہونے دیا

جیسے ترکیوں نے اتاترک کی پابندیاں لگانے کے بعد شراب خانوں میں جوا خانوں میں نمازیں پڑھیں قرآں سیکھا مگر چھوڑا نہیں اسلام سے ناطہ توڑا نہیں

یہی وجہ ہے ان میں سے ہی طیب اردگان جیسا مرد جری پیدا ہوا
وہ ایک اردگان کیا کرسکتا ھے

مگر اقبال نے تسلی دی کہ
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے کہ وہ شیر پھر بیدار ہوگ

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: