قوم لوط کے ساتھی

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رض کے زمانے میں ایک نوکر لڑکے نے اپنے مالک کو قتل کیا معاملہ حضرت عمر رض کے پاس گیا.

حضرت عمر رض ،نے لڑکے سے قتل کی وجہ پوچھی لڑکے نے کہا اس نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے حضرت عمر رض، کے پاس یہ اس قسم کا پہلا مقدمہ تھا حضرت عمر نے کیس حضرت علی کے پاس بھیجا حضرت علی رضہ، نے بات سن کر فرمایا آپ میرے پاس تیسرے دن آنا آپ کا فیصلہ کرو گا.

تیسرا دن آیا حضرت علی نے فرمایا اس کی قبر کھو دو قبر کھودی اس مالک کی قبر میں اس کی میت نہ تھی حضرت علی نے فرمایا لڑکا سچا ہے کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اقدس ہے جو مرد، مرد کے ساتھ بدفعلی کرتا،کرتے ھیں الللہ اس کو تیسرے دن قبر سے اٹھا کر لوط کی قوم میں ڈال دیتا ھیں اللہ ھم سب کو اس لعنت سے محفوظ رکھے آمین
اس میں بات قابل غور فعل اور مفعول دونوں کیلے یہ سخت وعید ھیں اللہ ہم سب کو اس غلیظ فعل سے محفوظ فرمائیں آمین..

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: