ایک صحابیہ کا عشق رسول ﷺ

ان کا نام اُمِ شریک تھا۔ دوس قبیلے سے تعلق تھا۔ انہوں نے جب سُنا کہ مدینہ میں ایک شخص نے نبوّت کا دعویٰ کیا ہے تو بنا دیکھے سُنے ان کو اس شخص پر ایمان لانے کا اشتیاق ہو گیا.

اور کسی آدمی کو ڈھونڈنے لگ گئیں تا کہ اس کو ساتھ لےکر مدینہ جائیں اور اسلام قبول کر لیں۔ چناچہ وہ اپنے دروازے کے آگے کھڑی ہو جاتیں اور راہ تکتیں کے کوئی ملے تو اس کو ساتھ لے کر جاؤں۔ ایک دن ایک یہودی ملا، اس نے کہا

اُمِشریککیاباتہےکیوںکھڑیہو …؟ ” اُمِ شریک فرماتی ہیں ” میں اس شخص کے پاس جا کر ایمان لانا چاہتی ہوں جس نے نبوّت کا دعویٰ کیا ہے، کیا تم میرے ساتھ چلو گے …؟ ” یہودی مان گیا اور بولا : ” چلو ہمارا قافلہ مدینہ ہی جا رہا ہے تمہیں بھی لے جائیں گے، تم ابھی تیاری کر لو اور نکلو میرے ساتھ … ” رمضان المبارک کا مہینہ تھا سخت گرمی تھی۔ اُمِ شریک اپنا پانی لینے کے لیٸے جانے لگیں تو یہودی بولا : پانیمتلومیرےپاسبہتپانیہے “
تو وہ اس کے ساتھ چل پڑیں، سارا دن سفر کر کے جب شام کو ایک جگہ رکے تو یہودی اپنا کھانا نکال کر کھانے لگا اور بولا :
آؤکھاناکھاؤ … “
اُمِ شریک نے کہا :
مجھےکھانانہیں بسپانیدےدو … ” یہودی نے اپنی خباثت دکھائی اور بولا : ” پہلے تم یہ وعدہ کرو کہ ایمان نہیں لاؤگی اور مُحَمَّد صلّی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم کے خلاف ہو کر ہمارا ساتھ دوگی … ” اُمِ شریک نے فرمایا : “اللّٰه کی قسم، اللّٰه تعالیٰ تمیں جزائےخیر نہ دے تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا میں کبھی بھی مُحَمَّد صلّی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم کے خلاف نہ ہوں گی … ” اور دور بیٹھے اونٹ کے پیٹ پر اپنا سر رکھ کر سو گئیں۔ اسی حالت میں لیٹے لیٹے اُن کی آنکھ کھلی تو کیا دیکھتیں ہیں کہ دودھ سے سفید اور شَکر سے میٹھا ٹھنڈا پانی ان کے چہرے پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اس پانی کو جی بھر کر پیا اور دوبارہ سو گئیں۔ صبح کو یہودی آیا تو اس نے مسخرہ پن کر کے پوچھا : “ہاں اُمِ شریک کہو کیسی گزری رات، پانی پھر پیا یا نہ …؟” تو اُمِ شریک نے فرمایا : ہاںراتکومیںنےسیرہوکرپانیپیا … “
یہودی طنزیہ لہجے میں بولا :
ہاںآسمانوںسےآیاہوگاپانیپھر … “
اور قافلہ رواں دواں ہو گیا، مدینے پہنچ کر جب اُمِ شریک شہنشاہ سرکار صلّی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم کے سامنے حاضر ہوئیں تو کچھ بولنے سے پہلے ہی حضرت مُحَمَّد صلّی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا :
“اے اُمِ شریک کہو کیسا ذائقہ تھا پانی کا جو آسمانوں سے آیا تمہارے لیٸے …؟”

یہ سُن کر اُمِ شریک نے فوراً کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان ہو گئیں۔ حضور صلّی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم نے نکاح کا پیغام بھیجا تو اُمِ شریک نے فرمایا :
“میں آپ ﷺ کے قابل نہیں، ناں ہی آپ ﷺ کے لائق ہوں۔ ہاں آپ ﷺ کو یہ اختیار ضرور دیتی ہوں کہ میرا جس مرضی سے نکاح کروا دیں …”

چناچہ ان کا نکاح حضرت زید رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے کر دیا گیا اور ان کو تیس صاع غلّہ دیا گیا اور فرمایا کہ :
اسغلّےکوماپنامتبےشکپوریزندگیکھاتے_رہو
ایک دن اُمِ شریک نے حضور صلّی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں ایک گھی کا کُپّہ ہدیہ کیا تو آپ صلّی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم نے ہدیہ قبول کر کے کُپّہ واپس کرتے ہوئے فرمایا : اس کُپّی کو مت ماپنا اور ساری زندگی اس سے گھی حاصل کرتے رہو … “
کافی عرصے تک اس کو کھاتے رہے نہ گھی ختم ہوا کبھی اور نہ ہی غلّہ ختم ہوا۔ ایک دن تجسّس سے مجبور اُمِ شریک نے غلّہ بھی ماپ لیا اور کُپّی بھی دیکھ لی تو اس کے بعد سے ان میں سے اناج ختم ہو گیا .

(بحوالہ کتاب، معجزات رسول صلّی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم
از مصطفیٰ مراد المصری)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: