قدرت کے نظارے

ایک شیخ فرماتے ہیں،میں حضرت ابوعلی بدوی رحمتہ اللّہ علیہ کے ہمراہ ویرانے کی طرف نِکلا۔ہمیں شِدّت کی بھوک لگی۔اس وقت ہم نے ایک لومڑی کو دیکھا کہ:
” زمین کھود کر کماۃ نِکالتی ہے اور ہماری جانب پھینکتی آتی ہے۔ ”
ہم نے حسبِ ضرورت لے لیا اور آگے روانہ ہوئے۔اسی سفر میں ہم نے ایک درندے کو زمین پر پڑا دیکھا،نزدیک سے دیکھا تو وہ اندھا تھا۔اچانک ایک کوّا اپنی چونچ میں گوشت کا ٹُکڑا لے آیا اور درندے کے منہ میں رکھ کر چلا گیا۔یہ دیکھ کر حضرت ابوعلی رحمتہ اللّہ علیہ نے فرمایا:
” یہ دلیلِ قدرت ہمارے لیے دِکھائی گئی ہے درندے کے لیے نہیں۔ ”
اس ویران جنگل میں ہم کئی روز چلتے رہے۔ایک جھونپڑا نظر آیا،جس میں ایک بُڑھیا تھی اور اس کے پاس کوئی شے نہیں تھی،باہر ایک پتّھر تھا جس میں گڑھا بنا ہُوا تھا۔ہم سلام کر کے وہاں کچھ رُکے،وہ عِبادت میں مشغول تھی۔سورج ڈوب گیا تو وہ اپنے ہاتھ میں روٹیاں اور کھجور لیے اندر سے نِکلی اور ہم سے کہا جھونپڑی میں جا کر اپنا حِصّہ لے لو۔ہم اندر گئے تو وہاں چار روٹیاں اور کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔حالانکہ اِردگِرد میں نہ کھجوروں کا کوئی درخت تھا نہ کھجوریں۔ہم نے روٹی اور کھجوریں کھا کر سیری حاصل کی۔تھوڑی دیر بعد ابر کا ایک ٹُکڑا آیا اور اس پتّھر پر برس کر چلا گیا۔اس کا گڑھا بھر گیا اور پانی کا کوئی قطرہ پتّھر کے باہر نہیں ٹپکا،میں نے بُڑھیا سے دریافت کِیا کہ:
” یہاں کتنے زمانے سے ہو؟ ”
اس نے کہا:
” ستّر سال سے ربّ تعالیٰ کا میرے ساتھ یہی معاملہ ہے،روزانہ اس طرح کھانا آتا ہے اور ابر پانی لاتا ہے۔ ”
بُڑھیا نے پوچھا:
” تم لوگ کہاں کا اِرادہ رکھتے ہو؟ ”
ہم نے بتایا کہ:
” ہم حضرت ابونصر سمرقندی کی زیارت کے لیے جا رہے ہیں۔ ”
اس نے کہا:
” ابونصر صالح اِنسان ہیں۔آئیے ابونصر لوگوں سے مِلیے۔ ”
ہم نے دیکھا تو حضرت ابونصر ہمارے پاس تھے۔ہم نے انہیں اور انہوں نے ہمیں سلام کِیا۔بوڑھی عارفہ نے پِھر فرمایا:
” جب بندّہ اللّہ کی اطاعت کرتا ہے تو اللّہ اس کے اِرادوں کو پورا فرماتا ہے۔ ”

نام کتاب = روض الریاحین فی حِکایت الصالحین ( اُردُو ترجمہ : بزمِ اولیاء )
صفحہ = 445،446
مصنف = اِمام عبداللّہ بِن اسعد یافعی رحمتہ اللّہ علیہ
مترجم = مولانا بدرُالقادری

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: