جنت پر تصرف


.
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف دنیا کے درختوں اور پہاڑوں پر ہی تصرف نہ تھا بلکہ جنت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تصرف حاصل ہے۔

اس کی دلیل استنِ حنانہ کا واقعہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ دینے کے لئے باقاعدہ منبر بنایا گیا تو آپ نے کھجور کے خشک تنے سے ٹیک لگاکر خطبہ دینا چھوڑ دیا۔ کھجور کا خشک تنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس جدائی کو برداشت نہیں کرپایا اور روپڑا۔ اسے چپ کروانے کے لئے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے منبر سے نیچے تشریف لائے۔

حَتّٰی اَخَذَهَا فَضَمَّهَا اِلَيْهِ فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِيْنَ الصَّبِیِّ الَّذِيْ يُسَکَّتُ حَتَّی اسْتَقَرَّتْ.

(البخاری فی الصحيح، کتاب البيوع، 2 / 738، رقم:1989)
.
’’اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے ستون کو پکڑ کر ساتھ لگالیا، ستون اس بچے کی طرح ہچکیاں لینے لگا جسے تھپکی دے کر چپ کرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے قرار مل گیا‘‘۔
.
توجہ طلب بات یہ ہے کہ مردہ درخت تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم پاک سے مس ہونے کے سبب اس مردہ درخت میں بھی جان آگئی اور شعور آگیا۔ اس کو بھی پتہ چل گیا کہ آج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے جدا ہوگئے ہیں اور دوسرے منبر پہ کھڑے ہیں۔ اس میں جان بھی آگئی، زندگی بھی آگئی، آنکھیں بھی آگئیں، احساس بھی آگیا اور رونا بھی آگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے جدا ہوگئے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سینے سے لگایا تو سسکیاں لے لے کر چپ ہونا بھی آگیا۔ یہ سارے حواس اور سارے شعور صرف جسم مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مس نے اُسے عطا کردیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیکھجور کے تنے سے مخاطب ہوکر فرمایا:
.
اخْتَرْ اَنْ اَغْرِسَکَ فِی الْمَکَانِ الَّذِيْ کُنْتَ فِيْهِ فَتَکُوْنَ کَمَا کُنْتَ وَاِنْ شِئْتَ اَنْ اَغْرِسَکَ فِی الْجَنَّةِ فَتَشْرَبَ مِنْ اَنْهَارِهَا وَ عُيُوْنِهَا فَيَحْسُنَ نَبْتُکَ وَتُثْمِرَ فَيَاْکُلَ اَوْلِيَاءُ اللّٰهِ مِنْ ثَمَرَتِکَ وَنَخْلِکَ فَعَلْتُ.

(مسند احمد بن حنبل، رقم: 21295، جلد: 5، ص: 138)
.
’’تم چاہو تو میں تمہیں اسی جگہ دوبارہ لگادوں جہاں تم پہلے تھے، اور تم دوبارہ ویسے ہی سرسبز و شاداب ہوجاؤ جیسا کہ کبھی تھے اور اگر چاہو تو (میری اس خدمت کے صلہ میں جو تم نے کچھ عرصہ سرانجام دی ہے) تمہیں جنت میں لگادوں، وہاں تم جنت کی نہروں اور چشموں سے سیراب ہوتے رہو، پھر تمہاری نشوونما بہترین ہوجائے اور تم پھل دینے لگو اور پھر اولیاء اللہ، تمہارا پھل کھائیں، اگر تم چاہو تو میں تمہیں ایسا کردیتا ہوں‘‘۔
.
یہاں بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اختیار ملاحظہ کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا نہیں کررہے، کسی ایک روایت میں بھی دعا کا لفظ نہیں آیا کہ اللہ اسے ایسا کردے بلکہ براہ راست کھجور کے تنے سے کہا کہ اگر تو چاہے تو میں تجھے دنیا میں ہی سرسبز و شاداب کردوں اور اگر چاہے تو تجھے جنت میں لگادوں۔ عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عالم یہ ہے کہ یہ اختیار اور قدرت اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کررکھی تھی کہ چاہے تو دنیا میں کھجور کے درخت کو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت میں لگادیں۔ جنت بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اختیار میں ہے، دنیا بھی اختیار میں ہے۔
.
اس درخت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان دونوں آپشنز کو سنا اور عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے جنت میں لگادیں تاکہ نبی اور ولی بھی میرا پھل کھائیں۔

فَزَعَمَ اَنَّهُ سَمِعَ مِنَ النَّبِیِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَهُوَ يَقُوْلُ لَهُ: نَعَمْ قَدْ فَعَلْتُ. مَرَّتَيْنِ فَسَاَلَ النَّبِیَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: اخْتَارَ اَنْ اَغْرِسَهُ فِی الْجَنَّةِ.
.
’’راوی کا بیان ہے کہ اس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دو مرتبہ فرمایا: ہاں میں نے ایسا کردیا۔ بعد ازاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں عرض کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھجور کے اس تنے نے یہ اختیار کیا کہ میں اسے جنت میں لگادوں‘‘۔
.
یعنی صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استنِ حنانہ کو دونوں آپشنز دینے کے بعد اس کو دوبار یہ کیوں فرمایا کہ ہاں میں نے کردیا۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے میری بات سن لی اور کہا کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب یہاں نہیں جنت میں لگادیں اور وہاں آپ بھی پھل کھائیں اور اولیاء بھی پھل کھائیں تو میں نے اس کو کہا نعم فعلت فعلت میں نے تمہیں جنت میں لگادیا۔ میں نے تمہیں جنت میں لگادیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: