آپ ﷺ کا سراپا نور ہی نور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللّٰہ ﷺ اپنے نعلین مبارک کو بنفس نفیس پیوند لگا رہے تھےاور میں چرخہ کات رہی تھی۔

اتفاق سے میری نظر امام الانبیاء ﷺ کے چیرہ انور کی طرف گئی تو میں نے دیکھا کہ آپﷺ کی پیشانی مبارک پر پسینے کے چند قطرات نمایاں ہیں اور پسینہ کے اندر ایک نور ہے جو ابھر رہا ہے اور بڑھ رہا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے لئے یہ ایک ایسا خوبصورت منظر تھا کہ میں حیرت و تعجب سے پوری دلجمعی کے ساتھ کافی دیر تک آقا ﷺ کی جبیں مبارک کادیدار کرتی رہی ,اچانک رسول اللہ ﷺ نے جو نظر مبارک اُٹھا کر میری طرف دیکھا
(کہ میں آپ ﷺ کی طرف حیرانگی کے ساتھ دیکھ رہی ہوں) تو فرمایا
عائشہ! کیا بات ہے،کیوں حیران ہو کر میری طرف دیکھ رہی ہو؟
میں نے عرض کیا:یا رسول اللہﷺ! میں نے دیکھا ہے کہ آپﷺ کی پیشانی مبارک پر پسینہ کے قطرات ہیں اور مجھے قطرات میں ایک چمکتا ہوا نور دکھائی دے رہا ہے
اس خوش کن اور مبارک منظر نے مجھے آپﷺ کی طرف دیکھتے رہے پر مجبور کر دیا تھا
بخدا! اگر “ابو کبیر ہذلی
(زمانہ جاہلیت کا مشہور شاعر)
آپ کو دیکھ لیتا تو اسے معلوم ہوتا کہ اس کے اشعار کا صحیح مصداق رسول اللہﷺ کی ذات اقدس ہے۔
نبی اکرمﷺ نے فرمایا سناؤ تو اس کے اشعار کیا ہیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کوابو کبیر ہذلی کے یہ اشعار سنائے
(ترجمہ)
وہ ولادت اور رضاعت کی آلودگیوں سے پاک ہے اس کے روشن چہرے کودیکھو تو معلوم ہوگا کہ نور اورروشن برق جلوہ دے رہی ہے
جب رسول اللہﷺ نے یہ اشعار سنے تو جو کچھ ہاتھ میں تھا وہ رکھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا
جو لطف و راحت مجھے تیرے کلام سے حاصل ہوئی ہے اس قدر مسرت و سرور تجھے میرے نظارے سے بھی حاصل نہ ہوا ہوگا

(مستدرک حاکم،مدارج السالکین،ص 277۔مصر بحوالہ سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا،ص252)
(کتاب :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے 100 قصّے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: