پھر ویسی اذاں نہ ہوئ

حضور نبی کریمﷺ کے وصال کے بعد مؤذن رسول حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آذان دینا ترک کر دی کیوں کہ پہلے جب آذان دیتے تھے تو حضور نبی کریمﷺ کا رُخ روشن سامنے ہوتا تھا۔

آپ جب اشہد ان محمد رسول اللہ ﷺ پر پہنچتے تو حضور نبی کریمﷺ کا دیدار کرتے اور آگے اذان دیتے تھے۔ اب جب کہ ایسا نہ رہا تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ طیبہ چھوڑ کر ملک شام چلے گئے اور وہاں سکونت اختیار کر لی۔ ایک دن رات کو خواب میں حضور نبی کریمﷺ کا دیدار ہوا اور بشارت ہوئی کہ ہمارے در پر حاضری دو۔ آپ رضی اللہ عنہ بیقراری کے عالم میں اٹھے اور مدینہ کی طرف چل دئیے۔ جب مدینہ پہنچے تو کہیں پر بھی حضور کریم ﷺ نظر نا آئے تو بیقراری کے عالم میں روتے ہوئے مدینہ کی گلیوں سے گزرے جب مسجد نبوی ﷺ میں پہنچے تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی کہ اے بلال! آج حضور کریم ﷺ کے دور کی اذان سنا دو آپ رضی اللہ عنہ نہ مانے۔ پھر صحابہ کرام علیہم الرضوان نے حضور کریمﷺ کے نواسوں(حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم) سے کہا کہ آپ ان سے عرض کیجئے آپ کی بات کو نہیں ٹالیں گے۔ جب انہوں نے عرض کی تو حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ انکار نا کر سکے۔ اور اذان دینے لگے۔ جب انہوں نے اذان دی تو پورے مدینہ میں کہرام مچ گیا اور سب بڑے چھوٹے سسکیاں لیتے ہوئے مسجد نبوی کی طرف دوڑے کہ شاید ہمارے آقا واپس آگئے ہوں۔ اور ادھر جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ جب اشہد ان محمد رسول اللہ ﷺ پر پہنچے تو حضور نبی کریمﷺ کا رخ انور نظر نا آیا۔ حضرت بلال حبشی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ غش کھا کر گر گئے اور اذان مکمل نہ کر سکے۔ جب تھوڑی دیر بعد ہوش آیا تو سب سے معذرت کر کے دوبارہ شام کی طرف چلے گئے۔کچھ ایسا کردے میر کردگار آنکھوں میں ہمیشہ نقش رہے روے یار آنکھوں میں انہیں نا دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں اللہ ! ہماری یہ آنکھیں حضور نبی کریمﷺ کے دیدار سے مشرف ہو جائیں۔ رَسُولَ اللّٰہﷺ! جہاں آپ نیکوں کے نبی ہیں تو ہم گنہگاروں کے بھی آپ نبی ہیں۔ ان کو دیدار کراتے ہیں ہمارا بھی حصہ عطا فرمائیں۔ یہ مانا کے ہماری آنکھیں اس قابل نہیں ہیں، نہیں ہیں، نہیں ہیں، پر محبت کا تقاضا ہے، آ پ نہ نہیں فرماتے ہیں۔ ہم گنہگاروں پر عنایت فرمائیں۔ ہمیں بھی دیدار کرا دیں۔ آمین ثم آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: