قرآن پاک کی ایک آیات اور آپ کی ہر مشکل حل

حضرت حبیب بن مَسلَمہ فَہریؓ مستجابُ الدعوات صحابی تھے، انھیں ایک لشکر کا امیر بنایا گیا۔ انھوں نے ملکِ روم جانے کے راستے تیار کرائے۔ جب دشمن کا سامنا ہوا تو انھوں نے لوگوں سے کہا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو جماعت ایک جگہ جمع ہو اور ان میں سے ایک دعا کرائے باقی سب آمین کہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے۔مجلس کے اختتام پر اجتماعی دعا ثابت ہے اور یہ قبول ہوجاتی ہے۔

لیکن جہاں خصوصیت سے یہ دعا ثابت نہ ہو اس کو سنت سمجھ کر نہیں کرنا چاہیے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ایک بندے نے گناہ کیا پھر (بارگاہِ الٰہی میں) عرض کیا:اے اللہ! میرے گناہ کو بخش دے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور اُسے یقین ہے کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، (سُو اﷲ تعالیٰ اُسے بخش دیتا ہے) پھر دوبارہ وہ بندہ گناہ کرتا ہے۔

اور کہتا ہے: اے میرے رب! میرا گناہ معاف کر دے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا ہے۔اسی حوالے سے آج آپ کو ایسا عمل بتانے جا رہے ہو جس کے کرنے سے آپ کی تمام مشکلات مصیبتیں ہر قسم کے مسائل حل ہو جائیں گے ۔لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ دوستو اس عمل کو اپنا معمول بنا لیں ہر وقت اس آیت کا ورد کیا کریں ان شاء اللہ کوئی مصیبت کوئی مشکل پریشانی ہوگی وہ حل ہو جائے گی۔ انسان تنگی میں تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتاہے، لیکن فراخی میں غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسان کی اسی طبیعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے (ہر حالت میں) ہمیں پکارتے ہیں۔

پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں، انھیں اپنے کرتوت اسی طرح خوش نما معلوم ہوتے ہیں لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد جب ہم انھیں اپنی رحمت چکھا دیں تو اچانک ہماری آیتوں کے بارے میں مکر کرنے لگتے ہیں۔ آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ اللہ مکر کی سزا جلد ہی دینے والا ہے ۔ بلاشبہ ہمارے فرشتے تمھارے مکر کے کاموں کو لکھ لیتے ہیں۔’وہ اللہ ہی تو ہے جو تمھیں خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی سفر کراتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو، اور یہ کشتیاں لوگوں کو لے کر خوش گوار ہوا کے ساتھ پانی پر چلتی ہیں۔

اور لوگ اس بات پر مگن ہوتے ہیں تو اچانک ان کے پاس ایک تیز آندھی آتی ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر گئے، تو اس وقت وہ خلوص کے ساتھ صرف اللہ پر اعتقاد کر کے صرف اسی کو پکارتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) (یا اللہ ! ) اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت سے) نجات دے دی تو ہم ضرور بالضرور شکر گزار لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔

پھر جب اللہ انھیں نجات دے دیتا ہے تو اچانک وہ زمین میں ناحق بغاوت کرنے لگتے ہیں۔ ‘ اے لوگو! تمھاری سرکشی تمھاری ہی جانوں پر ہے۔ دنیوی زندگی میں فائدہ اٹھا رہے ہو، پھر ہماری طرف تم کو لوٹ کر آنا ہے، ‘ سو ہم تمھیں بتادیں گے جو تم کرتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: