اے فراقِ محبت !

ایک ویڈیو دیکھی جس میں تُرک مسلمان مسجد نبوی شریف کے احاطے میں کھڑے ہوکر اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کررہا ہے کہ

میں وہاں کھڑا دیکھ رہا تھا کہ چار پولیس والے کسی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ پھر ایک شخص نمودار ہوا تو پولیس والوں نے بھاگ کر اُسے قابو کر لیا ، اور اس کے ہاتھ جکڑ لیے ۔

نوجوان نے کہا:
مجھے دعا اور توسل کی اجازت دے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بات سن لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کوئی بھکاری نہیں ہوں ، نہ چور ہوں – پھر وہ جوان چیخنے لگا ۔
میں نے اُسے دیکھا تو ایسے لگا جیسے میں اُسے جانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میں بتاتا ہوں کہ میں نے اُسے کیسے پہچانا:
دراصل میں نے اُسے کتنی ہی دفعہ بارگاہ رسالت میں روتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک البانوی نوجوان تھا ، جس کی عمر 35 یا 36 سال کے درمیان تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے سنہری بال اور ہلکی سی داڑھی تھی ۔
میں نے پولیس والوں سے کہا:
جب اس کا کوئی جرم نہیں ہے تو تم اس کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو ، آخر کیا الزام ہے اس پر؟
انھوں نے مجھے کہا:
ارے او تُرک ! تو پیچھے ہٹ اس معاملے میں بولنے کا تجھے کوئی حق نہیں ۔
لیکن میں نے پھر سے کہا:
آخر اس کا تمھارے ساتھ کیا مسئلہ ہے ؟ کیا اس نے کوئی چوری کی ہے ؟
انھوں نے کہا:
نہیں ، یہ بندہ 6 سال سے اِدھر مدینے شریف میں رہ رہا ہے ، لیکن اس کا یہ قیام غیر قانونی ہے ؛ ہم اسے پکڑ کر واپس اس کے ملک بھیجنا چاہتے ہیں ، لیکن یہ ہر دفعہ ہمیں چکمہ دےکر بھاگ جاتا ہے ، اور جا کر روضہ رسول میں پناہ لے لیتا ہے ، اور ہم اسے اندر جا کر گرفتار نہیں کرنا چاہتے تھے ۔
میں نے پوچھا:
تو اب اس کے ساتھ کیا کرو گے؟
کہنے لگے: ہم اسے پکڑ کر جہاز پر بٹھائیں گے اور واپس البانیا بھیج دیں گے ۔
نوجوان مسلسل روئے جا رہا تھا ، اور کَہ رہا تھا: کیا ہو جائے گا اگر تم مجھے چھوڑ دو گے تو ۔‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
دیکھو ، میں کوئی چور نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ میں کسی سے بھیک نہیں مانگتا ۔۔۔۔۔ میں تو ادھر بس محبت رسول میں رہ رہا ہوں ۔
پولیس والوں نے کہا: نہیں ، ایسا جائز نہیں ہے ۔
نوجوان نے کہا: اچھا مجھے ذرا آرام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرض کر لینے دو !
پھر نوجوان نے اپنا منھ گنبد خضرا کی طرف کر لیا ۔
پولیس والوں نے کہا: چل ، کَہ جو کہنا ہے ۔
تو نوجوان نے گنبدخضرا کی طرف دیکھا اور جو کچھ عربی میں کہا ، میں نے سمجھ لیا ‌۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نوجوان کَہ رہا تھا:
یا رسول اللہ ! کیا ہمارے درمیان اتفاق نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ کیا میں نے اپنے ماں باپ کو نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔ کیا اپنی دکان بند کر کے اپنا گھر بار نہیں چھوڑا ، اور یہ عہد کر کے یہاں نہیں آیا تھا کہ آپ کے جوارِ رحمت میں رہا کروں گا ؟
حضور! اب دیکھ لیجیے یہ مجھے ایسا کرنے سے منع کر رہے ہیں ۔
یا رسول اللہ ، یا رسول اللہ ، آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے !!
یارسول اللہ ! آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے ۔
اتنے میں نوجوان بے حال ہونے لگا ، تو پولیس والوں نے ذرا ڈھیل دی اور نوجوان نیچے گر گیا ۔
ایک پولیس والے نے اسے ٹُھڈا مارتے ہوئے کہا: او دھوکے باز اٹھ !
لیکن نوجوان نے کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا۔
میں نے پولیس والوں سے کہا:
یہ نہیں بھاگے گا ، تم حمامات سے پانی لاؤ اور اس کے چہرے پر ڈالو –
لیکن نوجوان کوئی حرکت نہیں کررہا تھا ۔

ایک پولیس والے نے کہا:
اسے دیکھو تو سہی ، کہیں یہ سچ مچ مر ہی نہ گیا ہو ۔
دوسرا پولیس والا‌کہنے لگا:
اسے ہم نے کون سی ایسی ضرب لگائی ہے جس سے یہ مر جائے !
پھر انھوں نے ایمبولینس والوں کو فون کیا ، وہ اُدھر سامنے والے سات نمبر گیٹ سے ایک ایمبولینس لے آئے ۔
انھوں نے نوجوان کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ کر حرکت نوٹ کی اور نبض چیک کی تو کہنے لگے:
اسے تو مَرے ہوئے 15 منٹ گزر چکے ہیں ۔
اب پولیس والے جیسے مجرم ہوں ، نیچے بیٹھ گئے اور رونے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ منظر بھی دیکھنے والا تھا ۔
ان میں سے ایک تو اپنے دونوں زانووں پر ہاتھ مارتے ہوئے کہتاتھا:
ہائے ہمارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے ۔۔۔۔۔۔۔ کاش ہمیں معلوم ہوتا کہ اسے رسول اللہ سے اتنی شدید محبت ہے ، ہائے ہمارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے ۔

اس کے بعد ایمبولینس والوں نے اُسے وہاں سے اُٹھا لیا ، اور جنت البقیع کی طرف تجہیز و تکفین والے حصے میں لے گئے ۔
غسل کے وقت میں بھی وہیں موجود تھا ، میں انھیں کہتا تھا مجھے بھی ہاتھ لگانے دو ، مجھے بھی اس کی چارپائی کو اٹھانے دو !!

جب جنازہ تیار ہو کر نماز کے لے جانے لگا تو پولیس والوں نے مجھے کہا:
ہم نے جتنا گناہ اٹھایا ہے بس اتنا کافی ہے ، اسے ہمارے سوا اور کوئی نہیں اٹھائے گا ، شاید اسی طرح ہمیں آخرت میں کچھ رعایت مل جائے ۔

میرے سامنے ہی وہ نوجوان بار بار کَہ رہا تھا کہ یا رسول اللہ ! آپ مداخلت کیوں نہیں فرما رہے ؟

دیکھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مداخلت فرما دی ، اور ملک الموت نے اپنا فریضہ ادا کر ( کے اسے آپ تک ہمیشہ کے لیے پہنچا ) دیا ۔
اللہ ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی ویسی ہی محبت عطا فرمائے جیسی اس البانی نوجوان کو عطا فرمائی تھی !!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: