ماں تو بس ماں ہوتی ہے

میں ایک بار کسی مریض کے ساتھ بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں تھا اسی دوران میں نے ایک بہت پرانے اور میلے سے کپڑوں میں ملبوس ایک بڑھیا کو قریب سے گزرتے دیکھا تو سمجھا کہ یہ شاید کوئی مانگنے والی ہے۔

مگر جب ایک دو بار اس پہ مزید نظر پڑی تو میں سوچنے لگا کہ نہیں یہ مانگنے والی نہیں ہو سکتی معاملہ کچھ اور ہے اور میں اپنی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس بوڑھی اماں کے پیچھے چل پڑا۔
میں نے دیکھا کہ وہ کچھ آگے جا کر تھک سی گئی ہے اور ایک طرف موجود چھوٹی سی دیوار کے ساتھ سہارا لے کر کھڑی ہو گئی ہے۔

میں جلدی سے اماں کے قریب ہوا اور سلام کرتے ہوئے پوچھا کہ اماں کہاں جا رہی ہو؟ اماں نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے میری طرف دیکھا اور کہنے لگیں کہ میرا بیٹا یہاں ہسپتال میں داخل ہے اس کے لئے چائے لینے جا رہی ہوں۔
میں نے کہا اماں آپ اتنی بزرگ ہو چکی ہیں ساتھ کسی اور کو لے آتیں آپ کہاں اتنی مشقت کرتی پھریں گی اور دوسرا آپ کے بیٹے کا وارڈ بھی دوسری منزل پہ ہے ہم جیسوں کے لئے مسلسل آنا جانا بہت مشکل ہو جاتا ہے آپ تو بہت تھک جائیں گی۔
اماں اک عجب سے انداز میں مسکراتے ہوئے بولی نہیں بیٹے میں نہیں تھکتی وہ میرا بیٹا ہے ناں اگر میں ہی تھک گئی تو اسے کون سنبھالے گا اور دوسرا ہمارا اور کوئی بھی نہیں ہے صرف ہم دو ماں بیٹا ہی ایک دوسرے کا سہارا ہیں۔
میرا جی بھر آیا اور میں نے کہا کہ اماں آپ واپس جائیں اپنے بیٹے کے پاس میں چائے لیکر آتا ہوں اور آپ کو پہنچا دیتا ہوں، اماں شاید واقعی تھک چکی تھی انکار نا کر سکی اور اپنے میلے سے آنچل کے پلو سے بندھے پیسے کھولنے لگ گئی میں نے فورا کہا نہیں اماں آپ رہنے دیں میں چائے لے آتا ہوں بس آپ دعا کر دینا اماں مجھے دعائیں دیتی ہوئی واپس اپنے کی بیٹے کی طرف چل دی اور میں چائے لینے کے لئے چل دیا۔
میں جب چائے لیکر واپس پہنچا تو دیکھا کہ اماں کا بیٹا کسی طرح بھی پچاس سال سے کم کا نہیں تھا اور بیماری کی وجہ سے وہ اپنی ماں سے بھی بوڑھا لگ رہا تھا اس نے نظر بھر کے میری طرف دیکھا اور بڑی بےبسی سے میرا شکریہ ادا کرنے لگا۔
اگلا منظر بہت عجب تھا جس کی شاید ہی کوئی درد دل رکھنے والا تاب لا پائے اماں نے میرے ہاتھ سے چائے پکڑی اور خود ہی اس میں رس بھگو بھگو کر اپنے بیٹے کو کھلانا شروع کر دئیے اور جب اس کے مونہہ پہ کوئی ذرہ رہ جاتا تو اماں اپنے پلو سے فورا اس کا مونہہ صاف کر دیتی میں قریب ہی بیٹھ کر یہ منظر دیکھنے لگ گیا۔
اماں نے دو تین رس کھلا کر باقی بچ جانے والی چائے اپنے ہاتھوں سے اسے پلائی اور پھر اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر اس کے بالوں کو درست کیا اور میری طرف متوجہ ہو گئی اور ایک بار پھر میرا شکریہ ادا کرنے لگی۔
میں نے کہا کہ اماں میں جب تک ادھر ہوں آپ کی ضرورت کی چیزیں لا دیا کروں گا آپ بس مجھے بتا دیا کریں اور اماں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اماں کا بیٹا کہنے لگا کہ بھائی میری اماں کی طبیعت ایک دو دنوں سے ٹھیک نہیں ہے میں اسے کہتا ہوں دوا لے لے یہ مانتی نہیں ہے آپ ہی اسے سمجھا دیں۔
اماں یہ سنتے ہی فورا تڑپ سی گئی اور مجھے کہنے لگی کہ بیٹے اس کی باتوں پہ کان نا دھرو یہ یونہی بولتا رہتا ہے اب اگر تھوڑی بہت طبیعت خراب ہو بھی جائے تو کیا بندہ دوا لینے دوڑ پڑے اور اگر ڈاکٹر نے کوئی بڑی بیماری بتا دی تو میں اپنے بچے کو کیسے سنبھال پاؤں گی اور ساتھ ہی اپنے میلے سے آنچل سے اپنی خشک آنکھوں میں امڈ آنے والے آنسو پونچھنے لگ گئی۔
میں تو بس ایک ہی بات جانتا ہوں کہ جب لفظ ماں آ جائے تو پھر باقی سب فرق ختم ہو جاتے ہیں کہ وہ خس و خاشاک پہ بسنے والی ماں ہے یا بنگلوں اور محلات میں رہنے والی ماں ہے، بلکہ یہ بھی فرق ختم ہو جاتا ہے کہ وہ ماں انسان ہے یا انسانوں کے علاوہ کسی اور مخلوق میں سے ہے ماں بس ماں ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: