پردہ کیسے مینیج کروں

وہ ابوظہبی سے اپنے جیٹھ کی وفات کی خبر سن کر آ رہی تھی افسردہ تھی ۔کہہ رہی تھی میرا گھرانہ پردے کے معاملے میں خاص نہ تھا ۔

جب شادی ہو کر آئی تو دیکھا کہ سب دیور جیٹھ نگاہیں جھکائے داخل ہوتے ہیں۔اور ہر ایسی جگہ جہاں ہمارے ہونے کا گمان ہو نہیں جاتے خود کو پابند رکھتے ہیں۔ کبھی کچن میں نہیں آتے کہ سب دیورانیاں وغیرہ میں سے کسی سے سامنا نہ ہو جائے۔ شادی کے شروع کے دنوں میں نند نے سمجھایا بھابھی جب باہر آئیں تو بڑی چادر لے لیا کریں کہ آپ کے لمبے بال نظر آتے ہیں۔کمرے میں جو جی چاہے شوہر کے لئے کریں۔ کہ باہر دیگر کے ایمان کا معاملہ ہے۔
کہنے لگیں مجھے یہ سب دلچسپ اور اچھا لگا ۔ساس نندوں نے بہت پیا ر سے اپنے گھر کے طور طریقے سکھائے۔ہماری مشترکہ فیملی سب انتہا کا احترام کرنے والے تھے۔
بڑے بھائیوں سے بڑھ کر خیال بھی رکھتے ۔کسی چیز کی ضرورت پر دوڑے چلے جاتے۔یہ سب میری ساس کی اعلیٰ تربیت کا نتیجہ تھا۔
وہ ایک جذب کے عالم میں بتاتی چلی جا رہی تھیں۔
آج ایک بچی نے واٹس ایپ پر سوال کیا پردے کو کیسے مینیج کروں؟
تو مجھے ان کا خیال آیا۔ بچی کہہ رہی تھی میں شریعت پر عمل کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔پردہ مینیج کرنے میں رہنمائی درکار ہے۔
آج سے انیس سال پہلے اس رہنمائی کی میری کزن کو بھی شدت سے ضرورت تھی۔جب میٹر ک کے بعد اس نےفیصلہ کیا کہ بس اب اللہ کے حکم سے انحراف نہیں کرنا فیصلہ تو کر لیا ۔عملی لحاظ سے مسائل کے پہاڑ تھے ۔کہ خاندان میں اس طرح کے پردے کا تصور تک نہ تھا۔سوچوں نے ذہن پر گھیرا ڈال دیا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں گاؤں گئے یہ وہ مرحلہ تھا جس نے اسےانتہائی پریشان کر رکھا تھا۔رب کی خاص مدد مانگی ۔
پہلا مرحلہ مشکل تھا جب رشتہ دار ملنے آئے تو نقاب کر کے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا ۔ایک صاحب نے اعلان کیا کہ ہم آئندہ نہیں آئیں گے اور نہ اپنے گھر کسی مرد کو آنے دیں گے۔اس طرح کچھ اور کو بھی پردے سے تکلیف پہنچی۔ اس کے زیر اثر گھر والوں نے بھی کافی سنائیں۔اس نے کہا میں کونسا سب سے کٹ رہی ہوں۔سلام تو کرتی ہوں۔اس سے ذیادہ میرا مردوں میں کیا کام۔
دادی جان کو اعتراض ہوا یہ کیسا پردہ ہے جو ایک برتن میں کھانا کھانے والوں سے بھی ہونے لگا ہے۔واحد ابو جی تھے جو اس کےمعاون بنے دادی جان سے کہا آپ ہی حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنھا جیسا پردہ مانگا کرتی تھیں ان بچیوں کے لئےاب جب اللہ نے توفیق دی تو مخالفت کرنے لگیں؟۔
وہ چپ تو ہو گئیں۔مگر افسردہ سی تھیں بحرحال مشکل مرحلہ سر ہوا اور اس فیصلے میں اتنی برکت ہوئی کہ اسی فیصد قریبی رشتہ دار لڑکیاں آج اسی طرح پردہ کرتی ہیں۔
اب کوئی بھی آئے تو خیال رکھا جاتا ہے۔اور اس کی افادیت بھی بہت محسوس ہوئی ہے۔صرف اس فیصلے نے بہت کچھ بدل ڈالا ہے۔رسوم ورواج پر اثر ڈالا ہے۔
بچی کے لئے پیغام ہے۔
پہلا مرحلہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ ڈالنا ہے کہ یہ غیر محرم کے سامنے نہیں آتیں اور پھر ڈٹ جانا ۔پھر سب آسان ہو جاتا ہے۔
خود کو غیر ضروری تکلیف میں بھی نہ ڈالیں۔کہ لوگوں کو کوفت ہونے لگے اور کوئی آپ جیسا بننے سے ڈرنے لگے۔معاملات میں محدود اور حسب ضرورت معاملہ کریں۔جہاں فتنہ کا خدشہ نہ ہو اور مخلوط محافل نہ ہوں کھلی کھلی باوقار نظر آئیں کہ لوگ آپ سےمتاثر ہوں۔آپ کو فالو کرنا چاہیں۔
یاد رکھیں کہ یہ فیصلہ عام فیصلہ نہیں۔آپ کی زندگی کے رخ کو یکسر بدل دینے والا فیصلہ ہے۔اس وقت کا غالب نظام سرمایہ دارانہ نظام بے۔جو مکمل بے حیائ کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ آپ کا یہ فیصلہ اس پورے سسٹم پر لعنت بھیجنے کے مترادف ہے۔ لہذا آپ کو قدم قدم پر مخالفت سے سابقہ پیش آ ۓ گا۔ لیکن یاد رکھیں تمام جہانوں کی سپر پاور آپ کے ساتھ ہے۔ اس فیصلے کی برکات کا آپ تصور نہیں کر سکتیں۔بہت جلد آپ اس کے ثمرات دیکھیں گی۔انشاء اللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: