اللہ کی طرف سے تحفہ

بھلا وہ نا جانے گا جس نے پیدا فرمایا؟ اور وہ باریک بین (اور) باخبر ہے. سورہ ملک

آج کی آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحفہ ہیں ہر اس انسان کے لیے جو ان کو پڑھتا ہے، اور قرآن تو ہم خود پڑھتے ہی نہیں ہیں، یہ تو ہم سے پڑھوایا جاتا ہے، ایک نیکی بھی ہم خود نہیں کر سکتے ہر نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے ہے اور گناہ سے بچنے کی طاقت اللہ کی طرف سے ہے، پھر یہ جو اللہ کا کلام ہے، جس کے زریعے اللہ ہم سے بات کرتا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ ہم خود پڑھ لیں؟ اور قرآن ہر کسی کو نہیں پڑھوایا اور سنوایا جاتا، یہ اللہ کے پسندیدہ اور محبوب بندے ہوتے ہیں جن کو اللہ توفیق دیتا ہے، وقت دیتا ہے، عقل و شعور دیتا ہے کہ اس پر غور و فکر کر سکیں، ہم میں کتنے ہی لوگ ہیں جن کے پاس وقت ہے لیکن وہ قرآن نہیں پڑھتے، اور کتنے ہی لوگ ہیں جن کے پاس دنیاوی کام اتنے ہیں کہ انکو فرصت ہی نہیں کہ وہ قرآن کو پڑھ لیں، سمجھنا تو دور، تو اگر آپ قرآن پڑھتے ہیں، سمجھتے ہیں، اس پہ غور و فکر کرتے ہیں، یا ایک آیت بھی روز کوشش کرتے ہیں ترجمے سے سیکھنے کی پڑھنے کی تو یہ جان لیں کہ یہ اللہ کا فضل ہے آپ پر، یقین کریں اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے نہ تو آپ آج سے ہی قرآن پڑھنا شروع کریں اللہ آپ کے وقت میں برکت ڈال دے گا، آپ کے کام آسان ہو جائیں گے، اللہ آپکے اسی وقت میں اتنی برکت دے گا کہ آپ قرآن پڑھ کر اپنے سب کام بھی کرلیں گے اور تب بھی وقت بچ جاۓ گا ورنہ آپ آزما کر دیکیھں۔ اگر آج آپ یہ پوسٹ پڑھ رہے ہیں تو یہ بھی اللہ کی طرف سے ہے، اللہ ہدایت اور نیکی کی باتیں ہر کسی کو نہیں سنواتا، وہ ہر کسی سے ایسے بات نہیں کرتا، جس سے اسکو امید ہوتی ہے میرا یہ بندہ کرے گا یہ کام، یا جسکو وہ اپنی رحمت میں لینا چاہتا ہے انکو پڑھا بھی دیتا اور سنوا بھی دیتا ہے، کتنے ہی لوگ ہوں گے جو اس کو بغیر پڑھے گزر جائیں گے، لیکن اگر آپ پڑھ رہے ہیں تو یہ اللہ کی رحمت ہے آپ پر، اس نے اپکو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے، تب ہی تو آج یہ آیات آپ کے لیے بھیجی ہیں اللہ نے، کیا کہہ رہا ہے اللہ آج آپ سے؟ بھلا وہ نا جانے جس نے پیدا کیا؟ اور وہ باریک بین (اور) باخبر ہے۔ کبھی کبھی ہمارے حالات سے، ہماری پریشانیوں سے، ہماری تکلیفوں سے ہمارے وہ اپنے بھی واقف نہیں ہوتے جو 24 گھنٹے ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، انہیں بھی نہیں پتہ ہوتا ہم اپنی لائف کے کس فیز سے گزر رہے ہیں، حتی کہ ہمارے ماں باپ بھی نہیں جانتے ہوتے، جانتا ہے تو بس وہ رب جو ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے، جس نے ہمارے وہ آنسو بھی دیکھے ہوتے ہیں جب ہم آدھی رات میں اٹھ کر تہجد میں اس کے سامنے بہادیتے ہیں، اور وہ اس نمی کو بھی جانتا ہے جو آنکھ میں آتی ہے آنسووں کو ضبط کرنے اور ہم اسے اندر اتار لیتے ہیں، لیکن کبھی کبھی مسلسل مشکلات اور حالات کے نہ بدلنے سے ہمیں لگتا ہے اللہ تعالیٰ بھی ہمارے حالات نہیں جانتا، جو ہم پہ بیت رہی ہے وہ بس ہم ہی جانتے ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہوتا، انہی ٹوٹے دلوں کو امید تھمانے کے لیے اللہ یہ آیات سامنے لاتا ہے، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے ایک ایک ایٹم جوڑ کر آپکا وجود بنایا، آج سائنسدان کہتے ہیں ایک وجود میں دس کھرب سیل ہیں پھر ہر ایک میں کتنے ایٹم ہیں یہ شمار نہیں کیا جاسکتا، جس ہستی نے ایک ایک ایٹم جوڑ کر سیل بنایا اور پھر ایکایک سیل جوڑ کر انسان کے اعضاء و جوارح بناۓ بھلا وہ اس کے حال سے واقف نہیں ہوگا؟ کیا وہ جانتا نہیں؟۔ اب آپ سوچیں کہ اگر ایک انسان ہی کوئی ایک چیز بناتا ہے مثلاً ایک انجینئر ایک مشین بناتا ہے تو کیا وہ اس کے بھیدوں سے واقف نہیں ہوگا؟ ہوگا نہ؟ اس مشین میں کوئ بھی مسلہ آۓ گا اسے پتہ ہوگا اسے کسیے فکس کرنا ہے اور یہ کیوں ایا، اسے کتنا وقت لگے گا فکس کرنے میں وہ انجینیئر جانتا ہے تو پھر وہ جس نے یہ پوری کائنات بنائ، ہر ایک کو خود پیدا کیا، حیات بخشی، سوچنے سمجھنے کی طاقت دی، بھلا اس سے کوئ چیز چھپی ہوئ ہو سکتی ہے؟ اور وہ باریک بین بھی ہے اور باخبر بھی، وہ اتنی باریک بینی سے ہر معاملے کو دیکھ رہا ہوتا ہے کہ ہم اسکا گمان بھی نہیں کر سکتے، اور اسکا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوۓ ہے کچھ بھی اس کے علم سے باہر نہیں، وہ ہر حال سے باخبر، ہر صورت اور ہر شے سے واقف ہے، جن مشکلوں میں بھی آپ ہیں اللہ اسے بخوبی جانتا ہے، اس نے آپکی دعائیں اور آنسو بھلا نہیں دیے، وہ ہر چیز جو دیکھنے والا اور جاننے والا ہے، ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی اور اللہ باریک بینی سے ہمارے لئے راستے بنا رہا ہوتا ہے، ہماری دعائیں قبول ہورہی ہوتی ہیں، بس اس کا علم ہمیں نہیں ہوتا، ہمیں جب پتہ چلتا ہے، جب پروسیس مکمل ہوجاتا ہے، جب چیزیں پرفیکٹ ہو کر ہم تک پہنچا دی جاتی ہیں، یوں سمجھیں ہماری محنت اور دعاؤں کا بدلے ہمیں ہماری سوچ اور گمان سے بڑھ کر نوازا جاتا ہے، بس ہمیں صبر کرنا ہوتا ہے اور اللہ ہر توکل رکھنا ہوتا ہے، کیونکہ ہر چیز اور ہر خبر کے لیے ایک وقت مقرر ہے اللہ کے ہاں، تو بس اس وقت کے آنے تک صبر اور دعا جاری رکھیں۔ اور ہو سکتا ہے اپکو کیا خبر فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو؟ ہو سکتا ہے اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہو، یقین رکھیں اور آج کی آیات پڑھ کر اپنے دل کو یقین دلائیں، اللہ تعالیٰ آپ کے ہر حال سے واقف ہے، وہ جانتا ہے آپ کے صبر کو آپ کے انتظار کو اور یہ بھی کہ آپ اس کی طرف سے تنگی کے آسان ہونے کے انتظار میں ہیں، اپ اسکی مدد کے انتظار میں ہیں، آپ اس کے کن کے انتظار میں ہیں، اور یقین جانیں وہ صرف اسی سے مدد مانگنے والوں اور اسی ہر بھروسہ رکھنے والوں کو مایوس نہیں لوٹاتا، اگر آپ نے اس کے لیے صبر کیا ہے، اس کے لیے کچھ چھوڑا ہے، اس کے لیے تکلیف برداشت کی ہے تو یقین رکھیں اللہ کبھی ضائع نہیں کرتا نیکی کرنے والوں کا اجر، اور ہر وہ کام جو آپ اللہ کے لیے کرتے ہیں وہ نیکی ہے۔ تو بس اج کی آیات کو یاد رکھیں اور یقین کریں یہ اللہ کی طرف سے ہیں خاص آپ کے لیے۔ قرآن پڑھیں یہ اپکوایسے ہی امید تھماتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ وہ رب ہرپل آپ کے ساتھ ہے۔ اللہ ہم سب کو توفیق دے اور سب کی مشکلوں کو دور کرے امین۔ جزاک اللہ
۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: