اہل جنت کی صفات اور جنت کی نعمتیں

حدیث مبارکہ کی روشنی میں جنتیوں کی صفات اور جنت کی نعمتوں کو بیان کیا گیا ہے,جسے پڑھ کر ہر مسلمان کا ایمان تازہ ہوجاے.

اہل جنت کا قد حضرت آدم علیہ السلام کے قد کے برابر ہوگا ان کا قد 60 ذراع لمبا تھا اور 7 ذراع چوڑا تھا تو جنت میں ہمارا قد بھی 60 ذراع لمبا اور 7 ذراع چوڑا ہوگا،ان شاءاللّه مرد کا بھی اور عورت کا بھی۔ ایک ذراع تقریبا 25.6 انچ کا ہوتا ہے ۔تو جنت میں ہمارا قد تقریبا 128 فٹ لمبا اور تقریبا 15 فٹ چوڑا ہوگا۔ ان شاءاللّہ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، مسند احمد ) اہل جنت کے جسم پر بال نہیں ہوں گے اور ان کے چہروں پر داڑھی مونچھ بھی نہیں ہوگی۔ صرف سر کے بال، بھنووں کے اور پلکوں کے بال ہونگے۔اور ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی( ترمذی شریف، سنن دارمی، مسند احمد ) اہل جنت، جنت میں کھائیں گے اور پیئیں گے لیکن نہ تھوکیں گے نہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ کریں گے نہ ناک سنکیں گے۔ ایک ڈکار آئے گا اور مشک کی طرح کا خوشبودار پسینہ آئے گا ان دونوں سے کھانا ہضم ہو جائے گا ۔( صحیح مسلم ) جنتی جنت میں جماع بھی کریں گے لیکن مرد یا عورت کی منی نہیں نکلے گی بلکہ مشک کی طرح کا خوشبودار پسینہ آئے گا اس سے جنابت نکل جائے گی.( المعجم الکبیر، طبرانی )۔ جنت میں ایک مرد کو کھانے، پینے، جماع اور شہوت میں 100 مردوں جتنی طاقت دی جائے گی۔(سنن دارمی، المعجم الکبیر طبرانی) جنت میں ہماری عمر 30 سال ہوگی اور پھر مزید کبھی نہیں بڑھے گی اور یہ 30 سال قمری ہیں .

اگر انھیں سورج کے سالوں میں تبدیل کیا جائے تو یہ 29 سال، 1 ماہ اور 7 سے 10 دن کی عمر بنتی ہے۔ اس عمر میں تو آدمی بالکل جوان ہوتا ہے۔(ترمذی شریف)ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر کوئی دوران پیدائش مر جائے یا بوڑھا ہو کر مرے تو وہ قیامت کے دن 30 سال کا اٹھایا جائے گا پھر اگر وہ اہل جنت میں سے ہوگا تو وہ حضرت آدم علیہ السلام کی بناوٹ پر ہوگا اور حضرت یوسف علیہ السلام کی صورت پر ہوگا اور حضرت ایوب علیہ السلام کے دل پر ہوگا اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہوگا تو اس کا جسم بڑا کر دیا جائے گا اور پھلا دیا جائے گا جس طرح پہاڑ ہوتا ہے۔( السلسلة الصحيحة )جنت کا ایک دن دنیا کے 1000 سال کے برابر ہوگا اور جب جنت میں رات ہوگی تو اندھیرا نہیں ہو گا بلکہ پردے گرا دیے جائیں گے جس سے جنتیوں کو پتا چل جائے گا کہ اب رات ہو گئی ہے. جنت میں سورج نہیں ہوگا بلکہ عرش سے ایک نور نکلے گا جس سے جنت میں روشنی ہوگی .جنت میں نیند نہیں ہے۔جنت میں تھکاوٹ بھی نہیں ہے.سب سے ادنی جنتی کو اللہ تعالی 80,000 نوکر اور 72 بیویاں عطا فرمائے گا(ترمذی شریف)سب سے ادنی جنتی بھی اپنی نعمتوں، باغات ، تختوں اور بیویوں کو ایک ہزار برس کی مسافت تک دیکھے گا اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ اکرام والا وہ ہوگا جو صبح و شام اللہ تعالی کے چہرے کی طرف دیکھے گا۔(ترمذی شریف) .

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور زمین کےطرف جھانک لے تو حور اور زمین کے درمیان ہر چیز روشن ہو جائے یعنی ساتوں آسمان بھی روشن ہو جائیں اور زمین بھی۔ اللہ اکبر ، سبحان اللہ (صحیح بخاری)حدیث میں آتا ہے کہ دنیا کی ایمان والی عورت، اس جنت کی حور سے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے، اس حور سے 70,000 گنا زیادہ خوبصورت ہوگی۔احدیث میں آتا ہے کہ جنت کی لڑکی کے سر کے بال، سر سے چلتے ہیں اور پاوں کی ایڑی تک آتے ہیں یعنی جنت کی لڑکی کا قد 128 فٹ ہے تو اس کے بال بھی 128 فٹ کے ہیں .جنت کی حور جب اپنے شوہر کی طرف ایک قدم رکھے گی تو اس ایک قدم میں ایک لاکھ نکھرہ اپنے شوہر کو دکھائے گی۔اہل جنت گورے سفید رنگ والے ہوں گے، گھنگریالے بالوں والے ہوں گے اور سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے۔(مسند احمد)ایک جنتی مرد ایک دن میں 100 کنواری عورتوں کے پاس جا سکے گا۔(السلسلة الصحيحة )جنت کی لڑکیاں جماع کے بعد بھی کنواری ہی رہیں گی۔(السلسلة الصحيحة )جنت میں اللہ تعالی ایمان والی عورتوں کو حیض سے پاک فرما دیں گے اور اللہ تعالی نے جنت کی حوروں کو تو پیدا ہی اس حالت میں فرمایا ہے کہ وہ حیض سے پاک ہیں۔اللہ تعالٰی اہل جنت مردوں اور عورتوں دونوں کو سبز رنگ کے ریشمی لباس پہنائے گا۔

اللہ تعالٰی ہر جنتی کو 70,70 لباس پہنائے گا اور سارے لباس ایک دوسرے کے پیچھے سے نظر آئیں گے اور آخری جوڑا جسم کو چھپائے گا لیکن میاں بیوں 70 جوڑوں میں سے ایک دوسرے کا پورا جسم ہر وقت دیکھ سکیں گے. اہل جنت کی زبان عربی ہوگی۔دنیا میں ہمارا دماغ صرف %4,5 کام کرتا ہے باقی کا %95,96 سویا رہتا ہے۔ لیکن جب ہم قیامت کے روز دوبارہ زندہ کیے جائیں گے تو اس وقت اللہ تعالٰی کی قدرت سے ہمارا سارا دماغ کھل چکا ہوگا یعنی اس وقت ہمارا دماغ %100 کام کر رہا ہوگا اور پھر جب ہم انشاء اللہ جنت میں داخل ہوں گے تو اس وقت بھی ہمارا دماغ %100 کام کر رہا ہوگا یعنی جنت میں ہمارا دماغ انتہائی تیز ہوگا۔ دنیا میں ہماری جسمانی طاقت کا صرف ایک تہائی حصہ جاگ رہا ہے، باقی کی جسمانی طاقت سوئی ہوئی ہے لیکن جنت میں اللہ تعالٰی کی قدرت سے ہماری جسمانی طاقت %100 کھل چکی ہوگی اور ہماری جسمانی طاقت کافی زیادہ بڑھ چکی ہوگی۔ اللہ تعالٰی جنت میں ہر جنتی مرد کو دنیاوی 100 مردوں جتنی طاقت عطا فرمائے گا، جنسی لحاظ سے بھی اور جسمانی طاقت کے لحاظ سے بھی .جنت کی سب سے بڑی نعمت اللہ تعالٰی کا دیدار ہے.عام جنت والے جمعہ کے جمعہ اللہ تعالٰی کا دیدار کیا کریں گے اور جنت الفردوس والے روزانہ دن میں 2 دفعہ اللہ تعالٰی کا دیدار کیا کریں گے، صبح بھی اور شام کو بھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: