ازواجی زندگی میں رویہ کی اہمیت

ہمارا یہ تجربہ ہے کہ ہمارے اس مسلمانوں کے ماحول میں ننانوے فیصد مسلمان بچیاں شادی کے وقت جب رخصت ہوتی ہیں تو انکے دل کی یہ نیت ہوتی ہے کہ میں نے آج جا کر اپنا گھر بسانا ہے۔

ننانوے فیصد بچیاں گھر بسانے کی نیت سے رخصت ہوتی ہیں۔ آگے خاوند پر منحصر یے کہ اگر اس نے صحیح برتاؤ کیا تو گھر آباد ہوجاۓ گا اور اگر اس نے غلط برتاؤ کیا تو گھر برباد ہوجاۓ گا۔گھر کی بنیاد مرد پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ کس طرح بیوی کو رکھتا یے۔ بیوی تو آتی ہی اس نیت کے ساتھ ہے کہ میں نے تو اپنا گھر بسانا ہے۔ آخر کار اس نے ماں کو کیوں چھوڑا، باپ کو کیوں چھوڑا، بہن بھایئوں کو کیوں چھوڑا، اپنے وطن کو کیوں چھوڑا، اپنے گھر کو کیوں چھوڑا کہ بس ایک بندے کی خاطر کہ میں جاؤں گی اور شوہر کے ساتھ اپنا گھر بساؤں گی۔جو بچی اتنی قربانی دے سکتی ہے وہ اس سے زیادہ بھی قربان کرسکتی ہے مگر اسکو خاوند سے محبت پیار اور عزت ملنی چاہیے۔ اچھے اخلاق ملنے چاہیئں۔لہذا معلوم ہوا کہ اگر خاوند کا برتاؤ اچھا ہو تو گھر اچھا بن جاتا ہے اور خاوند کا برتاؤ خراب ہو تو گھر برباد ہوجاتا ہے۔ اس لیے کسی نے عجیب بات کہی۔”جب اینٹیں جڑ جاتی ہیں تو مکان بن جایا کرتے ہیں، لیکن جب دل جڑ جاتے ہیں تو گھر بن جایا کرتے ہیں”۔لہذا خاوند کو چاہیۓ بیوی کو جو گھر لیکر ایا ہے اب اسکے ساتھ دل کو جوڑے اور اپنے گھر کو آباد کرے۔ دیکھیے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیسی رحمتیں ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: