سبق آموز اور اہم تحریر

۔۔ھماری فیکٹری کے قریب ایک ناشتہ پوائنٹ ھے اکثر وھاں ناشتہ کرنے جاتے ھیں. کافی رش ھوتا ھے ناشتے والے کے پاس میں نے کافی دفعہ مشاھدہ کیا کہ ایک شخص آتا ھے اور کھانا کھا کر بھیڑ کا فائدہ اُٹھا کر چُپکے سے پیسے دئیے بغیر ھی نکل جاتا ھے جھانسہ دے کر ایک دن جب وہ کھانا کھا رھا تھا تو میں نے چُپکے سے ناشتہ پوائنٹ کے مالک کو بتا دیا کہ وہ والا بھائی ناشتہ کر کے بغیر بِل دئیے رش کا فائدہ اُٹھا کر نکل جاتا ھے۔

آج یہ جانے نہ پائے.. اس کو رنگے ھاتھوں پکڑنا ھے آج میری بات سُن کر ناشتے والا مالک مُسکرانے لگ گیا اور کہنے لگا کہ اسے نکلنے دو.. کُچھ نہیں کہنا اس کو.. بعد میں بات کرتے ھیں. حسبِ معمول وہ بھائی ناشتہ کرنے کے بعد ادھر اُدھر دیکھتا ھوا جھانسہ دے کر چُپکے سے نکل گیا. میں نے ناشتے والے مالک سے پُوچھا کہ اب بتاؤ اُسے کیوں جانے دیا.. کیوں اُس کی اس حرکت کو نظر انداز کیا؟؟؟ جو جواب اُس ناشتے والے مالک نے دیا وہ جواب میرے چودہ طبق روشن کر گیا.

کہنے لگا کہ اکیلے تُم نہیں بہت سے بندوں نے اس کو نوٹ کیا اور مجھے بتایا. نہ بھی کوئی بتاتا تو مجھے خُود بھی پتہ ھے اس کی اس حرکت کا ھمیشہ سے کہنے لگا کہ یہ سامنے بیٹھا رھتا ھے اور جب دیکھتا ھے کہ میری دوکان پر رش ھو گیا ھے تو چُپکے سے آ کر کھانا کھا کر نِکل جاتا ھے. میں ھمیشہ اس کو نظر انداز کر دیتا ھوں اور کبھی نہیں روکا.. نہ پکڑا نہ کبھی بے عزت کرنے کی کوشش کی کیونکہ مجھے لگتا ھے نہ جانے کتنا ضرورت مند ہے کتنا بھوکا ہے لگتا ہے میری دوکان پر رش ھی اس بندے کی دُعا سے لگتا ھے.. یہ سامنے بیٹھ کر دُعا کرتا ھو گا کہ یا اللہ اس دوکان پر رش ھو تو میں اپنی کاروائی ڈال کر نکلُوں.۔ اور سچ میں رش ھو جاتا ھے ھمیشہ جب یہ آتا ھے۔

میں اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان اس دُعا اور قبُولیت کے معاملے میں ٹانگ اڑا کر اپنی بدبختی کو دعوت نہیں دینا چاھتا… یہ میری طرف سے نظر انداز ھی ھوتا رھے گا اور ھمیشہ ایسے کھانا کھاتا رھے گا تو بھی میں کبھی اس کو پکڑ کر بے عزت نہیں کروں گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: