بس رسم رہ گئ

شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں ۔۔۔ دلہن کیلئے شہر کے مہنگے بوتیک سے کپڑے آڈر کئے جا رہے تھے ۔ میک اپ کیلئے معروف آرٹسٹ کو بلوایا گیا ۔

مہندی کی رات دور دراز سے آنے والے گلوکاروں نے موسیقی کی دھن پر خوب ناچ گانا کیا ۔۔۔۔ مسلسل تین راتیں رقص و سرور کی محفل سجی رہی ۔۔۔ اعلی معیار کی شراب اور پروفیشنل ڈانسرز بلوا کر محفل کو مزید گرمایا گیا ۔۔۔۔
غرض شادی کے موقع پر کوئی ایک ایسی شیطانی خواہش نہ تھی جو پوری نا کی گئی ہو ۔۔
رخصتی والے دن بارات جب دلہن کو لیکر جانے لگی تو اچانک مجمع سے کسی نے یاد کروایا ” قرآن کہاں ہے ؟ ” دلہن کے سر پر تو رکھا نہیں ۔۔۔
وہاں موجود لوگ وہیں رک گئے اور پریشانی میں سمجھ نہیں آرہا تھا کہاں سے قرآن پاک منگوایا جائے ۔۔۔ کیونکہ قرآن پاک کے سائے کے بغیر دلہن کو روایہ کرنا اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا ۔۔۔
اتنے میں ایک نوجوان کو قریب کی مسجد میں بھیجا گیا کہ جاو مولوی صاحب نے قرآن پاک لے آو کہو کہ بارات رکی ہوئی ہے ۔۔۔
مولوی صاحب ,مولوی صاحب , جلدی سے قرآن پاک دیجیے ۔۔۔ کیوں بیٹا کیا ہوا ؟؟ کیا پوچھنا ہے پوچھو ۔۔
نہیں مولوی صاحب ۔۔ ایک بارات رکی ہوئی ہے قرآن پاک کی رسم باقی ہے وہ پوری کرنی ہے ۔۔۔
جلدی ہی واپس دے جاوں گا ۔۔
قرآن پاک کی رسم !!! انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔
معاف کرنا بیٹا ۔۔۔ قرآن پاک رسمیں ادا کیلئے نہیں دیا جاتا ۔۔
جب اس شخص کا اصرار بڑھا تو مولوی صاحب نے حجرے سے عام سی کوئی کتاب غلاف میں لپیٹ کر دے دی ۔۔اور حیرت کی بات کہ تھوڑی ہی دیر میں وہ شخص آیا اور واپس کرتے ہوئے شکریہ ادا کرنے لگا ۔۔
ایک دفعہ پھر مولوی صاحب نے منہ سے ” انا للہ وانا الیہ راجعون ” نکلا ۔۔ کہ فقط رسم ادا کرنے کا اتنا جنون کہ کھول کر دیکھنا بھی گوارا نا کیا کہ اندر کیا ہے ۔۔
اور دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ رسم کیلئے قرآن پاک نا دیکر اس پاک کتاب کا وقار بلند رکھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: