فجر کی نماز کے فائدے

حدیث میں ہے کہ جس نے صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی، پھر طلوعِ آفتاب تک اسی جگہ بیٹھا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہا، پھر آفتاب طلوع ہونے کے بعد اس نے دو رکعت نماز پڑھی تو اس کو ایک حج او رایک عمرہ کا ثواب ملے گا۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از راہِ تاکید ارشاد فرمایا: پورے پورے حج وعمرہ کا۔ (ترمذی شریف) مذکورہ فضیلت کامل طریقے پر تو اس شخص کے لیے ہے جو فجر پڑھ کر مسجد ہی میں اپنی جگہ بیٹھا ذکر اللہ میں مشغول رہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک فجر کی نماز پڑھنے کے بعد طلوعِ آفتاب تک اسی جگہ بیٹھنے کا تھا، اس لیے مسجد ہی میں اشراق تک بیٹھ کر ذکر وغیرہ کرنا زیادہ افضل ہے۔

البتہ نماز اشراق کی فضیلت مستقلاً حدیث میں وارد ہوئی ہے، وہ فضیلت آپ کو بھی ان شاء اللہ حاصل ہوگی، وہ یہ ہے کہ: جو شخص دن کی ابتداء میں یہ نماز پڑھ لے میں دن کے آخر تک اس کے لیے کفایت کروں گا۔ اور ایک دوسری حدیث میں ہے: کہ اگر اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو اللہ انھیں معاف کردیں گے۔ اس کے علاوہ اور بھی فضائل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: