خوشبوئے رسول ﷺ

حضرت سیدتنا آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بوقت پیدائش سرکار صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم کے جسم مبارک سے ایسی خوشبو مہک رہی تھی جیسے کستوری ہو جس سے سارا گھر مہک گیا۔
(زرقانی علی المواہب ١/١١٥)

علامہ یوسف نبھانی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
جس مجلس میں حبیب خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم پر درود پاک پڑھا جائے اس سے ایک ایسی پسکیزہ خوشبو پھیلتی ہےجو آسمان کی بلندیوں تک جاتی ہے اس خوشبو کو محسوس کرکے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں یہ کوئی ایسی مجلس سے خوشبو آئی ہے جس میں محمد مصطفیٰ صلی ﷲ علیہ وسلم پر درودِ پاک پڑھا گیا ہے۔
(سعادت الدارین،ص١٤٣)

حضور اقدس ﷺکا جسم اطہر نور علی نور ہونے کی وجہ سے خوشبو کا مرکز و منبع تھا یہی وجہ تھی کہ آپ کے جسم کے ہر حصے سے خوشبو آتی تھی حتی کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے خون مبارک میں عجیب قسم کی خوشبو تھی۔
(خوشبوئے رسول کریم،ص56)

علامہ یاقوت الحموی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
مدینہ منورہ کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی آب و ہوا خوشبودار ہے اس کے عطر میں ایسی مہک ہے جو اس کے علاؤہ کہیں بھی نہیں۔
(خوشبوئے رسول کریم،ص57)

امام ابو عبداللہ عطارد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
مدینہ منورہ کی آب و ہوا میں حضور انور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم کی خوشبو ایسے مہک اٹھتی ہے کہ اس کے مقابلے میں کستوری،کافوراور تروتازہ صندل کی کوئی حیثیت نہیں۔
(خوشبوئے رسول کریم،ص58)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بوقت وصال آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کا سر میری گود میں تھا اور جب آپ روح پرفتوح نے پرواز کی تو ایسی خوشبو مہکی کہ اس سے پہلے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی تھی۔
(خصائصِ کبریٰ٢٧٤/٢)

حضرت سیدنا مولی علی کرم اللہ وجھہ الکریم نے نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کو غسل دیتے وقت یوں عرض کیاکہ میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ نے زندگی بھی پاکیزہ گزاری اور وصال مبارک بھی پاکیزہ ہے اور فرمایا کہ غسل دیتے وقت ایسی پاکیزہ خوشبو مہکی کہ اس جیسی کسی نے نہیں محسوس کی ہوگی۔
(خصائصِ کبریٰ ٢٧٦/٢)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی ﷲ عنہ سے مروی ہےکہ نبی مکرم شافع محشر صلی ﷲ علیہ وسلم جس راہ سے گزر جاتے تو بعد میں آنے والا خوشبو سے محسوس کرلیتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے گزرے ہیں۔
( خصائصِ کبریٰ٦٧/١)

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس دن رسولِ خدا صلی ﷲ علیہ وسلم کا وصالِ ظاہری ہوا میں نے حضور پُرنور صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر آپ کے سینے پر رکھ دیئے تو کئی ہفتوں تک میرے ہاتھوں سے وضو کرتے ،کھانا کھاتے وقت مشک و عنبر کی سی خوشبو مہکتی تھی
(شواہد النبوة،ص١٨٧)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: