اہل عرب کی انوکھی روایت

‏”اہل عرب جب شادی بیاہ کرتے تھے تو قدیم رواج کے مطابق دعوت کی تقریب میں شامل مہمانوں کی تواضع کےلیے بھنے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کو روٹی کے اندر لپیٹ کرپیش کرتے تھے۔

اگر کسی تقریب میں گھرکے سربراہ کوپتا چلتاکہ اس شادی میں شریک افراد کی تعداد دعوت میں تیار کیے گوشت کے ٹکڑوں کی تعداد سے ‏زیادہ ہے ، یا زیادہ ہوسکتی ہے ، تو وہ کھانے کے وقت دو روٹیاں (گوشت کے بغیر) ایک دوسرے کے ساتھ لپیٹ کر اپنے اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور انتہائی قریبی دوستوں میں تقسیم کرتے جبکہ گوشت روٹی کے اندر لپیٹ کر صرف باہر سے آئے ہوئے اجنبیوں کو پیش کیا جاتا تھا.ایسا ہی ایک بار غریب شخص کے ‏ہاں شادی کی تقریب تھی جس میں اس شخص نے دعوت کے دن احتیاطاً بغیر گوشت کے روٹی کے اندر روٹی لپیٹ کر اپنے گھر والوں،رشتہ داروں اور متعدد قریبی قابلِ بھروسہ دوستوں کو کھانے میں پیش کی،تاکہ اجنبیوں کو کھانے میں روٹی کے ساتھ گوشت مل سکے اورکسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچاجاسکے.جنہیں‏صرف روٹی ملی تھی تو انہوں نے ایسے کھانا شروع کردیا گویا اس میں گوشت موجود ہے، سوائے اسکے ایک انتہائی قریبی رشتہ دار کے، اس نے روٹی کھولی گھر کے سربراہ کو بلایا اور غصے سے بلند آواز میں اس سے کہا،اے عبداللہ کے باپ یہ کیا مذاق ہے یہ تو روٹی گوشت کے بغیر ہے میں تو آج کے دن ہرگز ‏یہ نہیں کھاؤں گا,غریب شخص نے تحمل سے سنا اور مسکرا کر جواب دیا،اجنبیوں کا مجھ پر حق ہے کہ میرےدسترخوان پر انہیں ہرحال میں گوشت پیش کیا جائے

.یہ لیجئے گوشت کا ٹکڑا اور معافی چاہتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی میں آپکو اپنے اہلِ خانہ میں شمار کر رہا تھا,قدیم عربی ادب سے ماخوذ”
ترجمہ نگار “توقير بُھملہ”
حکمت:موجودہ دور میں، ہم بہت سارے لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔انکو گھرکے فرد جیسا سمجھتے ہوئے یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ مشکل وقت میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے،ہماری پیٹھ پیچھے ہماری عزت کی حفاظت کرتے ہوئے ہر حال میں ‏وفاداری نبھائیں گے لیکن اکثر عین ضرورت کے وقت ہمارے اندازے غلط ثابت ہوجاتے ہیں۔
اس لیے”اس بات کو یقینی بنائیں کہ کون سی روٹی کون سے بندے کو دینی ہے”

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: