دیدارِ رسولﷺ کی برکتیں

صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان کی خوش نصیبی کے بھی کیا کہنے! انہوں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دیدار کا شرف پایا .

کوئی حاجت ہوتی تو رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہو جاتے اور اپنا مسئلہ حل کر وا لیتے۔ جس طرح نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی حیاتِ ظاہری میں فیض لٹایا اوراپنے صحابہ کی مشکلات کو حل فرمایا ، اسی طرح حیاتِ ظاہری کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا ، کبھی خواب میں اپنے عاشقوں کو زیارت سے مشرف فرمایا ، کسی کو اپنے پاس بلایا ، تو کسی کی مشکل کشائی فرمائی ، کسی کو شہادت کا مُژدہ سنایا ، توکسی کی داد رسی فرمائی۔ ایسے بے شمار واقعات سے کتابیں مالا مال ہیں ۔

خواب میں نبیِ پاکﷺ کو دیکھنا :
.
خواب میں نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا دیدار ہونا ایسی روشن حقیقت ہے کہ جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا کیونکہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود ارشاد فرمایا : وَمَنْ رَاٰنِي فِي المَنَامِ فَقَدْ رَاٰنِي ، فَاِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي یعنی اور جس نے خواب میں مجھےدیکھا تو بےشک اس نے مجھے ہی دیکھا ، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ [3]
.
ایک اور حدیثِ پاک میں یوں فرمایا : مَنْ رَاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَسَيَرَانِیْ فِیْ الْيَقَظَةِ وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيطَانُ بِیْ یعنی جس نے خواب میں مجھے دیکھاوہ عنقریب بیداری میں بھی مجھے دیکھے گا اور شیطان میراہم شکل نہیں ہو سکتا۔ [4]
.
حفاظَتِ اِیمان کی سند :
.
اس حدیثِ پاک کےتحت شارحِ بُخاری حضرتِ علاّمہ مفتی محمد شریفُ الحق امجدی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :
بعدِ وصال بھی اگر کوئی حُضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خواب میں زیارت سے مُشَرَّف ہو تو حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اُس پر کرم فرمائیں گے اور بیداری میں بھی اپنی زیارت سے مُشَرَّف فرمائیں گے۔ دوسری تاویل یہ کی گئی ہے کہ وہ (خواب میں دیدار کرنے والا) آخِرت میں حُضورِ اَقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا دیدار کرے گا یعنی مخصوص طریقے سے قربِ خاص میں باریاب (یعنی حاضِری کی اِجازت پانے والا) ہو گا اور اُس کا خاتِمہ اِیمان پر ہو گا۔ [5]
.
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ہرزیارت کرنے والا اپنی اپنی ایمانی حیثیت کے مطابق حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت کرتا ہے ، حضرت علامہ محمداسماعیل حقّی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :
جس نے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خواب میں زیارت کی اور کوئی ناپسندیدہ بات نہیں تھی (مثلاً سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ناراض نہیں تھے) تو وہ عمدہ حال میں رہے گا ، اگر ویران جگہ پر دیدار کیا تو وہ ویرانہ سبزہ زار میں بدل جائے گا۔ [6]
.
[3] بخاری ، 1 / 57 ، حدیث : 110
[4] بخاری ، 4 / 406 ، حدیث : 6993
[5] نزہۃ القاری ، 5 / 846
[6] روح البیان ، 9 / 230 ، پ27 ، النجم ، تحت الآیۃ : 18

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: