حضرت فاطمہ رضہ کا حکمت بھرا جواب

خاتون جنّت حضرت فاطمہ الزّہرا رضی اللہ عنہا
ایک دفعہ کسی نے سیّدہ سے پوچھا، چالیس اونٹوں کی زکوٰۃ کیا ہوگی۔ سیّدہ نے فرمایا ’’تمہارے لئے صرف ایک اونٹ اور اگر میرے پاس چالیس اونٹ ہوں تو میں سارے ہی خدا کی راہ میں دے دوں۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی…اللہ عنہ راوی ہیں کہ ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہا نے ساری رات ایک باغ سینچا اور اجرت میں تھوڑے سے جو حاصل کئے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کا ایک حصہ لے
کر پیسا اور کھانا تیار کیا۔ عین کھانے کے وقت ایک مسکین نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا ’’ میں بھوکا ہوں‘‘۔ حضرت سیّدہ نے وہ سارا کھانا اسے دے دیا۔ پھر باقی اناج کا کچھ حصہ لے کر پیسا اور کھانا پکایا۔ ابھی کھانا پک کر تیار ہی ہوا تھا کہ ایک یتیم نے دروازہ پر آ کر دست سوال دراز کیا۔ وہ سب کھانا اسے دے دیا۔ پھر باقی اناج پیسا اور کھانا تیار کیا اتنے میں ایک مشرک قیدی نے اللہ کی راہ میں کھانا مانگا۔ وہ سب کھانا اس کو دے دیا گیا۔ غرض سب اہل خانہ نے اس دن فاقہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ اس سارے گھر کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا
ترجمہ:
اور وہ اللہ کی راہ میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔
(سورۃ الدھر⁄ سورۃ الانسان:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: