قوم شعیب اور ظلم کا نظام

اللہ پاک نے جب اپنے محسن پیغمبر شعیب علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا. پیغمبر شعیب نے اپنی قوم کو پہلے توحید کی دعوت دی اس کے بعد کہا “ناپ تول میں کمی نہ کرو.” ھود 84

شعیب علیہ السلام نے نہ نمازوں کی بات کی, نہ داڑھی کی بات کی, نہ روزوں کی بات کی, نہ حج عمروں کی بات کی, نہ نوافل کی بات کی. غرض کسی بھی عبادت کی بات نہیں کی.

پیغمبر نے وہ بات کی جس کا deep کونیکشن اللہ پاک کی مخلوق کے ساتھ تھا. شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس فعل سے روکا جس سے اللہ پاک کی مخلوق hurt ہوتی ہے. پورے پیسے دینے پر کم سامان ملنا یہ ظلم نہیں تو پھر اور کیا یے؟؟؟

یہاں ہمارے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے. توحید کو اپنانے کے بعد پہلے وہ کام نہیں کرنا جس سے اللہ کی مخلوق کو شدید تکلیف ملے. مخلوق کا حق نہیں کھانا. دھوکے سے مخلوق کا حق حاصل نہیں کرنا. چوری نہیں کرنا. ناپ تول میں کمی نہیں کرنا, ملاوٹ نہیں کرنا. آسان الفاظ میں کسی پر ظلم نہیں کرنا. جس سے مخلوق hurt ہو اور اس کی آنکھوں میں آنسو آجائیں.

قرآن پاک اللہ کی توحید کے بعد پہلے ظلم کے خلاف بات کرتا ہے. اس کی ایک مثال شعیب علیہ السلام کی قوم تھی,نمازیں, روزے, حج عمرے, داڑھی, ٹوپی, قرآن پڑھنا و تفسیر کرنا یہ بہت بعد میں ہے. جو ذرا برابر بھی ظلم کر کے ان عبادات کی طرف جاتا ہے وہ فقط اپنے دل کو مطمئن کرتا ہے. اللہ پاک کو اس کی ان عبادات کی ضرورت نہیں.

یہاں اکثریت حقوق اللہ کے معاملے میں بہت آگے ہیں لیکن حقوق العباد کے معاملے میں کہیں نہ کہیں کوتاہی ضرور کر رہی ہے. کوتاہی کرنے کے بعد مصلے پر آکر درود شریف پڑھ کر, نبی کی ذات کا وسیلہ دے کر اللہ سے دعا کرتے ہیں. اور یہ سمجھ بیٹھتے ہیں میرے 80 سال کے گناہ معاف ہو گئے.

اگر دین اسلام گناہوں کو delete کرنے کا 4g pkg دیتا ہے.
پھر پیغمبر شعیب بھی اپنی قوم کو توحید کے بعد ڈارکٹ مصلے پر لے آتے, ساتھ میں 4g pkg بھی دے دیتے. ناپ تول کرتے وقت کمی ہو جائے , کوئی مسئلہ نہیں مصلے پر آکر درود پڑھیں پھر میری ذات کا وسیلہ اللہ کو دے کر دعا کریں, 80 سال کے سارے گناہ معاف…

انا للہ وانا الیہ رجعون….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: