حضرت سری سقطی (رضی اللّه تعالہ عنہ)

حضرت سری سقطیؒ نے ایک شرابی کو دیکھا جو مدہوش زمین پر گرا ہوا تھا,اور اپنے شراب آلودہ منہ سے ﷲ ﷲ کہہ رہا تھا۔

حضرت سری سقطیؒ نے وہیں بیٹھ کر اس کا منہ پانی سے دھویا اور فرمایا:’’اس بے خبر کو کیا خبر؟ کہ ناپاک منہ سے کس پاک ذات کا نام لے رہا ہے۔‘‘ اس کا منہ دھو کر آپ چلے گئے۔جب شرابی کو ہوش آیا تو لوگوں نے اسے بتایا۔تمہاری بے ہوشی کے عالم میں حضرت سری سقطیؒ یہاں آئے تھے اور تمہارا منہ دھو کر گئے ہیں۔شرابی یہ سُن کر بڑا پشیمان اور نادم ہوا اور رونے لگا۔اپنے نفس کو مخاطب کر کے بولا:’’ بے شرم! اب تو سری سقطیؒ بھی تجھے اس حال میں دیکھ گئے ہیں۔اللہ عزوجل سے ڈر اور آئندہ کے لیے توبہ کر,رات کو حضرت سری سقطیؒ نے خواب میں کسی کہنے والے کو یہ کہتے سنا۔اے سریؒ! تم نے شرابی کا ہماری خاطر منہ دھویا,ہم نے تمہاری خاطر اس کا دل دھو دیا۔ حضرت سری سقطیؒ تہجد کے وقت مسجد میں گئے۔تو اس شرابی کو تہجد پڑھتے ہوئے پایاآپؒ نے اس سے پوچھا:’’ تم میں یہ انقلاب کیسے آ گیا؟‘‘وہ بولا: ’’آپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ﷲ عزوجل نے آپ کو بتا دیا ہے۔کامل مرشد اپنے مریدوں کو پہاڑوں، جنگلوں یا قبرستانوں میں بٹھا کر معاشرے سے دور نہیں رکھتا,بلکہ وہ اپنے مریدوں کی ترببیت کر کے انہیں معاشرے میں ایک باکردار انسان بناتا ہے۔وہ مریدوں کو اللّه تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں سے جدا نہیں کرتا,بلکہ شکر گذاری کے ساتھ ان نعمتوں سے فائدہ لینے کی تربیت فرماتا ہے۔

وہ ان کے دلوں کو غیراللّه سے پاک کر کے ان کے باطن کو روشن کر دیتا ہے,اور انہیں اللّه سے ملا دیتا ہے۔پیر کامل وہی ہے جو اپنے مریدوں کو منزل مقصود تک پنہچائے۔جو مریدوں کو راہ حق میں ساتھ ساتھ لے کر نہ چل سکے وہ کامل رہبر کیسے ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: