پرسکون کیسے رہیں

ہم سب کسی نہ کسی کمپلیکس(احساس کمتری) ،ان سیکورٹی، خوف اور غیریقینت کا شکار ہیں۔

ہم اپنی شکل و صورت سے لے کر خاندان، ملک، حالات، جاب، اسٹڈی، اور ایج سمیت ہر چیز سے غیر مطمئن ہیں۔آپ بھی کسی نہ کسی بھنور میں ضرور گرفتار ہوں گے*۔

تو ایسا کرنے کی کوشش کریں کہ ​سب ” بیوٹی اسٹینڈرز“پھاڑ کر پھینک دیں۔ پرسکون ہو جائیں، اطمینان پا لیں، خود کو قبول کریں۔ آپ لمبے ہیں، پتلے ہیں، چھوٹے ہیں،گورے ہیں، کالے ہیں، جیسے بھی ہیں، خود کو قبول کریں۔ خود سے جہاں اور جیسے کی بنیاد پر محبت کریں۔ خود سے بھاگنے کی کوشش نہ کریں،ورنہ ساری عمر بھاگتے ہی رہیں گے۔ آپ گاؤں سے ہیں، شہر سے ہیں، آپ کے والدین کم پڑھے لکھے ہیں، آپ کا بچپن مصیبت زدہ رہا، یا آپ بروکن فیملی سے ہیں …اسے قبول کر لیں …اس پر اطمینان حاصل کر لیں۔آپ کی شادی ٹوٹ گئی، رشتے داروں نے اچھا سلوک نہیں کیا، فرینڈز نے دھوکا دیا، محبت میں بے وفائی ملی، وعدہ کر کے مکر گئے، آپ وہ نہیں پا سکے جس کے خواب دیکھتے تھے، وہاں شادی نہیں ہو سکی جہاں کرنی تھی

اس سب کو قبول کر لیں ……بس قبول کر لیں* ……

بے چینی سے نکل آئیں گے*۔یہ کرنا *مشکل* ہے، لیکن نا ممکن نہیں۔ اگرمگر میں نہ پڑیں کہ اگر ایسا کر لیتا، اگر ویسا ہو جاتا۔ کیونکہ قرآن بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ اگر مگر میں نہ پڑو۔ جو جیسے ہونا تھا وہ ہونا تھا، اگر تمہاری کوشش کامل تھی، نیت سچی تھی، لیکن پھر بھی معاملہ تمہارے حق میں نہیں ہوا تو بس اس تقدیر پرراضی ہو جاؤ۔ کچھ سوالوں کے جواب نہیں ملتے۔ اس لیے نہیں کہ ان کے جواب نہیں ہوتے۔

بس اس لیے کہ ان کے جواب سمجھنے کی ہم میں صلاحیت نہیں ہوتی۔ ہم اس مقام تک نہیں پہنچے ہوتے کہ ان حکمتوں کو سمجھ سکیں جن کی بناء پر ہمیں ایسی صورتحال یا حقیقت سے دوچار کیا جاتا ہے

تو تحریر کا مقصد ہے کہ پرسکون ہو جائیں

میں چاہتی ہوں کہ بے سکونی کی جنگ ختم کرنے میں آپ اپنا پورا اور بھرپور کردار ادا کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: