ڈیڑھ کروڑ افراد کی قاتل چڑیا..

یہ 1959ء سے 1961ء کا درمیانی دور تھا،چین کے انقلابی راہنما ماؤ زے تنگ ملک میں نت نئے تجربات کر رہا تھا،ملک کی پیداوار بڑھانے کے لئے انہوں نے ایک عجیب جنگ کا اعلان کردیا تھا.

یہ جنگ چڑیا کے خلاف تھی ماؤ زے تنگ کا خیال تھا کہ پرندوں کی یہ قسم چاول گندم اور دیگر فصلوں کو سخت نقصان پہنچاتی ہے لہذا ان کا خاتمہ ضروری ہے.

چنانچہ کسانوں کو انعامات کی لالچ دی گئی کہ جس نے زیادہ چڑیا مار دیے ان کے لیے انعام،لوگوں نے چڑیوں کے گھونسلے تباہ کر دیے،انڈے توڑ دیے پکڑ پکڑ کر چڑیوں کے بچے مار دیے،اس مہم کے نتیجے میں چڑیا کا وجود ختم ہوا.درختوں کی ٹہنیاں خالی ہوگئیں.

لیکن نتیجہ انتہائی خوفناک نکلا یہ چڑیا ٹڈی دل اور دیگر جن حشرات الارض کا شکار کرتی تھی ان حشرات نے جان کی امان پا کر فصلوں پر ہلہ بول دیا اور فصلوں کو تباہ کرکے رکھ چھوڑا، جس کے باعث ملک میں قحط سالی نے ڈیرے ڈال دیے نتیجتا ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ موت کے منہ میں چلے گئے،یہ چائنہ کی تاریخ کا بدترین قحط تھا.

لہذا یہ خیال بھی ذہن میں مت لائیے گا کہ آپ کسی شخص
اور مخلوق کے لئے رزق کا دروازہ بند کروگے یا اس پر تنگی کر دو گے تو وہ رزق آپ کی جھولی میں گرے گا،ممکن ہے آپ جس پر رزق کا دروازہ بند کر رہے ہیں وہ آپ کے اوپر سے
کئی بلائیں اور مصیبتیں ٹالنے کے کام پر رب کی طرف سے
مامور ہو اور آپ اس بات سے بے خبر ،اس لئے کہ رزق کی تقسیم تو اللہ رزاق کی طرف سے ہے نا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: