عام اور معمولی ماں مت بنیں

بری چیزوں اور بدکلامی سے اپنی اولاد کی فکری و ذہنی نظافت کا خیال بھی اسی طرح سے کریں جیسے اسکے کپڑوں کی صفائی کا خیال رکھتی ہیں.

جیسے اسکی جسمانی نشوونما کا خیال رکھتی ہیں، اسی طرح اسکی عقل میں صحیح عقیدہ راسخ کرنے کا اہتمام کریں.

اس بات کا بھی اہتمام کریں کہ آپکی اولاد وقت پر نماز ادا کرنے کی عادی بنے، جیسے آپ اسکے وقت پر کھانے پینے اور پڑھنے لکھنے کا دھیان رکھتی ہیں*.

اسکے مسجد جانے اور قرآن مجید کے حفظ کو بھی اہمیت دیں جیسے آپ اسکے سکول جانے کی فکر کرتی ہیں.

رات کو انہیں خیالی دنیا کی کہانیاں سنانے کی بجائے، انہیں انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین، تابعین، صالح لوگوں کے قصے سنائیں، اور ان سب کی محبت بچوں کے دل میں پیدا کریں اور انکی اقتداء کا شوق ابھاریں.

حروف ابجد سے پہلے، اپنے بچوں کو لا إله إلا الله کے معنی سکھائیں.

دنیاوی زندگی سے پہلے، انہیں جنتی زندگی سے متعارف کروائیں.

انکے دل میں آخرت کی محبت ڈالیں، قبل اس سے کہ وہ بڑے ہو کر اس سے خوف کھانے لگے.

انہیں بڑوں کا احترام کرنا، کھانے کے آداب اور صلہ رحمی سکھائیں.

انہیں اخلاقِ حمیدہ سکھائیں.
ایک عظیم ماں ہونے کے ناطے، اولاد کی تربیت میں اپنا محاسبہ کرتی رہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان میں برکت عطا فرمائے.

آپ فقط ایک ماں نہیں ہیں، بلکہ ایک سچی محبت کرنی والی دوست بھی ہیں. اپنی اولاد کی صحیح خطوط پر تربیت کریں تاکہ اگر کبھی زندگی کے لھو و لعب اسے اپنی طرف کھینچنے لگیں تو وہ ان سے بچ کر مسجد کی طرف اپنا رستہ، نیک ساتھی کو اپنی پناہ گاہ، قرآن کو اپنا ہم سفر، اور جنت کو اپنا ہدف بنا لیں. ایسی ماں بنیں جسکی تربیت پر رَشک آے
اِس امت کو ایسے مَردوں کی ضرورت ہے جو اللہ کے لیے کسی ملامت کرنیوالے کی ملامت سے نہیں ڈرتے،
جو دنیا کے چکر میں آخرت سے غافل نہیں ہوتے.

یاد رکھیں! آپ اپنی اولاد کی بہترین استاد ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: