حضرت عمر رضہ کی سخاوت

ہر وہ بچہ جو دودھ پینے کی عمر سے گزر جائے ، حضرت عمر فاروق رضی اللہُ تعالیٰ عنہُ نے اس کے لیے وظیفہ مقرر کیا ہوا تھا۔

ایک دن رات کو گشت کر رہے تھے کہ ایک گھر سے ایک بچے کے مسلسل رونے کی آواز آرہی تھی، پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک بچہ ماں کی گود میں مسلسل روئے جا رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہُ تعالیٰ عنہُ نے فرمایا کہ بچہ ماں کی گود میں زیادہ دیر رو نہیں سکتا، ضرور کوئی غیر معمولی بات ہے، تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ ماں بچے سے دودھ چھڑانا چاہتی ہے تاکہ بچے کا وظیفہ مقرر ہو جائے لیکن بچہ ابھی ایک سال کا ہے اور دودھ چھوڑنا نہیں چاہتا۔ آپ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ عمر کی مملکت میں اتنا ظلم ہو رہا ہے، حضرت عمر رضی اللہُ تعالیٰ عنہُ نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ مائیں اس پالیسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وظیفہ حاصل کرنے کی لالچ میں اپنے بچوں سے دودھ چھڑوا رہی ہیں۔ آپ نے حکم دیا کہ آج کے بعد بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کے لیے وظیفہ مقرر کر دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: