سیدنا ابوہریرہ رضہ کی کیفیتِ اِضطراب

.
یوں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی آرزو اور تمنا ہر صحابی رسول کے دل میں اس طرح بسی ہوئی تھی کہ اُن کی زندگی کا کوئی لمحہ اس سے خالی نہیں تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو سکون کی دولت نصیب ہوتی اور معرفتِ الٰہی کے دریچے ان پر روشن ہو جاتے۔ اُن کے دل کی دھڑکن میں زیارتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش اس درجہ سما گئی تھی کہ اگر کچھ عرصہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار میسر نہ آتا تو وہ بے قرار ہو جاتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر جو کیفیت گزرتی تھی اس کے بارے میں وہ خود روایت کرتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض گزاری :
.
إني إذا رأيتک طابت نفسي و قرّت عيني، فأنبئني عن کل شئ، قال : کل خلق ﷲ من الماء.
.
’’جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا ہوں (تو تمام غم بھول جاتا ہوں اور) دل خوشی سے جھوم اٹھتا ہے اور آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں، پس مجھے تمام اشیاء (کائنات کی تخلیق) کے بارے میں آگاہ فرمائیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہر شے کی تخلیق پانی سے کی ہے۔‘‘
.احمد بن حبنل، المسند، 2 : 323

حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 4 : 176، رقم : 7278
.
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے ہر کوئی فنا فی الرسول کے مقام پر فائز تھا اُن کا جینا مرنا، عبادت ریاضت، جہاد تبلیغ سب کچھ ذاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منسوب تھا۔ اس لئے وہ اپنے آقا و مولا سے ایک لمحہ کی جدائی گوارا نہ کرتے تھے اور ہر لمحہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت میں مست و بے خود رہتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: