اصـــولِ عِشـــق اور مــولانا رومؒ

وہ بازار سے گزر رہے تھے, مولانا صاحب کے سامنے کریانے کی دکان تھی۔ایک درمیانی عمر کی خاتون دکان پر کھڑی تھی اور دکاندار وارفتگی کے عالم میں اس خاتون کو دیکھ رہا تھا۔

وہ جس چیز (جنس) کی طرف اشارہ کرتی دکاندار ہاتھ سےبوری سے وہ جنس نکالنے لگتا تھا۔۔۔ اور اس وقت تک وہ جنس تھیلے میں ڈالتا جاتا جب تک خاتون کی انگلی کسی دوسری بوری کی طرف نہیں جاتی۔۔۔ اور دکاندار دوسری بوری سے بھی اندھادھند جنس نکال کر تھیلے میں ڈالنے لگتا۔۔۔

یہ عجیب منظر تھا ۔۔۔ دکاندار وارفتگی کے ساتھ گاہک کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اور گاہک انگلی کے اشارے سے دکاندار کو پوری دکان میں گھما رہا تھا ۔۔۔ اور دکاندار اٰلہ دین کے جن کی طرح چپ چاپ اس کے حکم پر عمل کر رہا تھا۔۔۔

خاتون نے آخر میں لمبی سانس لی اور دکاندار کو حکم دیا “چلو بس کرو ۔۔۔۔ آج کی خریداری مکمل ہو گئی۔۔۔۔”

دکاندار نے چھوٹی چھوٹی تھیلیوں کے منہ بند کئے ۔۔۔ یہ تھیلیاں بڑی بوری میں ڈالیں ۔۔۔ بوری کندھے پر رکھی اور خاتون سے بولا “چلو زبیدہ۔۔۔۔ میں سامان تمہارے گھر چھوڑ آتا ہوں۔۔۔۔”

خاتون نے نخوت سے گردن ہلائی اور پوچھا “کتنا حساب ہوا۔۔۔۔؟”

دکاندار نے جواب دیا “زبیدہ عشق میں حساب نہیں ہوتا۔۔۔۔”

خاتون نے غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔ واپس مڑی اور گھر کی طرف چل پڑی ۔۔۔ دکاندار بھی بوری اٹھا کر چپ چاپ اس کے پیچھے چل پڑا۔

مولانا صاحب یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔۔۔ دکاندار خاتون کے ساتھ چلا گیا تو مولانا صاحب دکان کے تھڑے پر بیٹھ گئے اور شاگرد گلی میں کھڑے ہو گئے ۔۔۔ دکاندار تھوڑی دیر بعد واپس آ گیا۔

مولانا صاحب نے دکاندار کو قریب بلایا اور پوچھا “یہ خاتون کون تھی۔۔۔۔؟”

دکاندار نے ادب سے ہاتھ چومے اور بولا “جناب یہ فلاں امیر خاندان کی نوکرانی ہے۔”

مولانا صاحب نے پوچھا “تم نے اسے بغیر تولے سامان باندھ دیا ۔۔۔ پھر اس سے رقم بھی نہیں لی ۔۔۔ کیوں۔۔؟”
دکاندار نے عرض کیا “مولانا صاحب میں اس کا عاشق ہوں اور انسان جب کسی کے عشق میں مبتلا ہوتا ہے تو پھر اس سے حساب نہیں کر سکتا”

دکاندار کی یہ بات سیدھی مولانا صاحب کے دل پر لگی ۔۔۔ وہ چکرائے اور بیہوش ہو کر گر پڑے۔

شاگرد دوڑے ۔۔۔ مولانا صاحب کو اٹھایا ۔۔۔ ان کے چہرے پر عرقِ گلاب چھڑکا ۔۔۔ ان کی ہتھیلیاں اور پاؤں رگڑے ۔۔۔ مولانا صاحب نے بڑی مشکل سے آنکھیں کھولیں۔

دکاندار گھبرایا ہوا تھا ۔۔۔ وہ مولانا صاحب پر جھکا اور ادب سے عرض کیا “جناب اگر مجھ سے غلطی ہو گئی ہو تو معافی چاہتا ہوں۔۔۔”

مولانا صاحب نے فرمایا “تم میرے محسن ہو ۔۔۔ میرے مرشد ہو ۔۔۔ کیونکہ تم نے آج مجھے زندگی میں عشق کا سب سے بڑا سبق دیا”

دکاندار نے حیرت سے پوچھا “جناب وہ کیسے۔۔۔؟”

مولانا صاحب نے فرمایا “میں نے جانا تم ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر حساب سے بیگانے ہو جبکہ میں اللہ کی تسبیح بھی گن گن کر کرتا ہوں ۔۔۔ نفل بھی گن کر پڑھتا ہوں اور قرآن مجید کی تلاوت بھی اوراق گن کر کرتا ہوں ۔۔۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالٰی سے عشق کا دعوٰی کرتا ہوں۔ تم کتنے سچے اور میں کس قدر جھوٹا عاشق ہوں۔”

مولانا صاحب وہاں سے اٹھے ۔۔۔ اپنی درگاہ پر واپس آئے اور اپنے استاد حضرت شمس تبریز کے ساتھ مل کر عشق کے چالیس اصول لکھے۔ ان اصولوں میں ایک اصول “بے حساب اطاعت” بھی تھا۔

یہ مولانا صاحب مولانا روم تھے ۔۔۔ اور یہ پوری زندگی اپنے شاگردوں کو بتاتے رہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں نعمتیں دیتے ہوئے حساب نہیں کیا ۔۔۔ چنانچہ تم بھی اس کا شکر ادا کرتے ہوئے حساب نہ کیا کرو ۔۔۔ اپنی ہر سانس کی تار اللہ کے شکر سے جوڑ دو ۔۔۔ اس کا ذکر کرتے وقت کبھی حساب نہ کرو ۔۔۔ یہ بھی تم سے حساب نہیں مانگے گا
اور یہ کُل عشقِ الٰہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: