عشق

حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ تنہا حج کے لئے گیا۔

مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران میرا معمول تھا کہ جب رات زیادہ ہو جاتی تو طواف کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک نوجوان لڑکی کو دیکھا۔ وہ طواف کر رہی تھی اور اشعار پڑھ رہی تھی:

’’میں نے عشق کو بہت چھپایا مگر وہ مخفی نہیں رہتا۔
اب تو کھلم کھلا میرے پاس ڈیرہ ڈال دیا ہے جب شوق بڑھتا ہے تو اس کے ذکر سے دل بے چین ہو جاتا ہے۔
اور اگر میں اپنے محبوب سے قریب ہونا چاہتی ہوں تو وہ مجھ سے قریب ہو جاتا ہے اور وہ ظاہر ہوتا ہے تو میں اس میں فنا ہو جاتی ہوں اور پھر اسی کے لئے زندہ ہو جاتی ہوں اور وہ مجھے کامیاب کرتا ہے حتیٰ کہ میں مست و بے خود ہو جاتی ہوں۔‘‘
میں نے اس سے کہا کہ تو خدا سے کیا کہتی ہے۔ ایسی بابرکت جگہ ایسے شعر پڑھتی ہے۔ وہ لڑکی میری جانب متوجہ ہوئی اور کہا:
جنید اس کے عشق میں بھاگی پھر رہی ہوں اور اسی کی محبت نے مجھے حیران اور پریشان کر رکھا ہے۔
اس کے بعد لڑکی نے دریافت کیا جنید تم اللہ کا طواف کرتے ہو یا بیت اللہ کا؟ میں نے جواب دیا میں تو بیت اللہ کا طواف کرتا ہوں۔
اس نے اپنا منہ آسمان کی طرف کیا اور بولی، سبحان اللہ آپ کی بھی کیا شان ہے، پتھر کی مانند بے شعور مخلوق پتھروں کا طواف کرتے ہیں اور شعور والے، گھر والے کا طواف کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے عشق و محبت میں سچے ہوتے تو ان کی اپنی صفات غائب ہو جاتیں۔ اور اللہ کی صفات ان میں پیدا ہو جاتیں۔
حضرت جنیدؒ فرماتے ہیں کہ فرط غم سے میں غش کھا کر گر گیا جب ہوش آیا تو وہ جا چکی تھی۔

حوالہ کتب : طبقات صُوفیہ, کشف المعجوب

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: