عربی سہیلی

اسکا دو ماہ کا بچہ تھا وہ پیمپر تبدیل کر وانے واش روم گئیں ۔مدد کے لئے میں بھی ساتھ ہو لی ۔بچے کو دھلانے کے بعد انھوں نے اسے مکمل وضو کروایا ۔

میرے لئے یہ ایک نیا عمل تھا ۔وضو عموماً بڑے ہی کرتے ہیں اتنے چھوٹے بچوں کو وضو کروانے کا تصور نہیں ۔
اس کے بہت سے کام الگ سے تھے۔ دو سالہ بیٹی کو کھانا کھلانے لگیں ہر نوالہ منہ میں ڈال کر کہتیں الحمدللہ ،بچی بھی توتلی زبان میں دہراتی تب دوسرا نوالہ کھلاتیں۔ وہ مکمل یکسوئی سے بچوں میں مگن تھیں ۔اسی یکسوئی سے میں ان ماں بچوں کا مشاہدہ کیے جا رہی تھی۔
وہ یمن کی رہنے والی تھیں کالج میں ساتھ ہی عربی پڑھاتی تھیں یہیں دوستی ہو گئی۔خلوص اور محبت کے ساتھ اس دوستی کی وجہ عربی زبان تھی ۔انھیں ٹوٹی پھوٹی اردو اور انگریزی آتی تھی۔دیار غیر میں ہم زبان کا مل جانا ایک نعمت ہوتی ہے۔وہ جیسے ہم زبان کی ترسی ہوئی تھیں

کچھ ہی دنوں بعد میری دعوت پر گھر چلی آئیں ان کا ہر ہر انداز الگ سا تھا اور میں سیکھنے کی شائق۔
میرے گھر داخل ہوتے ہی بار بار شکر کر رہی تھیں۔پوچھا کیا ہو ا کہنے لگیں۔شکر ہے بلاسٹ اور فائرنگ سے بچ گئی۔انھیں سمجھایا کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔ ہمارا میڈیا منفی پہلوؤں کا ڈھنڈورا ذیادہ پیٹتا ہے۔تسلی پر خوش ہو گئیں۔
بچوں پر خاص توجہ سے عرب ماؤں کی فضیلت سمجھ آئی کہ وہ بچوں کا بہت خیال رکھنے والی ہوتی ہیں۔
بچوں سے فارغ ہو کر عفوا (معذرت)کہتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوئیں۔
مشکل سے روکے ہوئے سوالات میں سے پہلا سوال پوچھا آپ اتنے چھوٹے بچے کو وضو کیوں کرواتی ہیں۔ ان کا جواب سوچ کی نئی جہت دینے والا تھا کہنے لگیں بچہ سب کچھ اسی عمر میں سیکھتا ہے اپنی شخصیت کی بنیادیں رکھتا ہےاس عمر میں دیا جانے والا ہر تصور پختگی کے ساتھ بچے کی شخصیت میں پیوست ہو جاتا ہے۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکیزگی اسکی بنیادوں میں ڈالنا چاہتی ہوں اس لئے اسے پہلے دن سے وضو کی عادت ڈالی ہے۔
امید ہے آخری دم تک پاکی کے ساتھ رہے گا اور اس کے اعضاء وضو روز قیامت روشن ہونگے ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ معصوم ہے شیاطین کے حملے بھی ہوتے ہیں ان سے تحفظ ہوگا۔
جھٹ دوسرا سوال کیا ۔کھانے کے دوران ایک مرتبہ تو اللہ کا شکر ادا کرنا سمجھ آتا ہے یہ ہر ہر نوالے پر بات سمجھ نہیں آئی۔وہ مسکرائیں اور سمجھاتے ہوئے کہا ۔
میری پیاری سہیلی وہ رب جس نے ہمیں خاص طور پر بنایا تمام مخلوقات کو ہماری خدمت میں لگایا۔ ہم تو شکر ادا کر ہی نہیں سکتے ۔یہ نوالہ جو ہم منہ میں ڈالتے ہیں۔کتنے مراحل سے گزار کر ہمارے ہاتھوں میں دیا جاتا ہے۔اس کا شکر تو ہر سانس کے ساتھ واجب ہے۔
شکر کا احساس بچوں کی گھٹی میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ اس نے اللہ کی دی نعمتوں کا ایسا تذکرہ کیا کہ سر شرم سے جھک گیا۔
ہم ایک شکائتی ماحول میں پلنے والے لوگ ہیں ۔آپس میں ایک دوسرے سے تو نالاں رہتے ہی ہیں رب سے بھی شکوے شکائتوں ہی کا تعلق ہے ۔ اولین تعلق شکر گزاری کا ہو یہ ان سے سیکھا۔
ان کے سامنے بیٹھی زندگی کے کئی سبق لیتے وقت کا پتہ ہی نہ چلا۔

کچھ ہی دنوں بعد فون آیا جلدی سے میرے گھر آ جائیں۔میں پریشان ہوئی اللہ خیر کرے جھٹ ایک سہیلی کو ساتھ لیے ان کے گھر جا پہنچی ۔
ہمیں دیکھ کر بے طرح خوش ہوئیں۔دیکھ کر اطمینان ہو گیا ۔ باتوں میں کہنے لگیں یہاں لوگ ا چھے بھی بہت ہیں بروں کی بھی کمی نہیں وجہ پوچھی کہنے لگیں۔کل میاں کے بغیر شاپنگ کرنے چلی گئی۔دس منٹ کے فاصلے پر بازار ہے۔پرس میں سے پیسے نکال کر رکشے والے سے پوچھا کونسا نوٹ لو گے ۔اس نے نیلا نو ٹ (ایک ہزار) لے لیا ۔ایسا ہی ایک شاپ پر کیا انھوں نے سمجھایا کہ ایسے نہ کرو واپس جاؤ اور شوہر کے ساتھ آنا۔ بس چند چیزیں لے کر واپس آ گئی ۔
اسے سمجھایا کسی بھی جگہ لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے کسی سہیلی کو ساتھ لے جایا کرو۔ موصوفہ کالج میں گاؤن اسکارف میں ہوتی تھیں گھر میں جینز میں تھیں۔ بڑے شوق سے میرے لئے بھی جینز لے رکھی تھی۔کہتی تھیں میاں کے سامنے پہننا ۔بمشکل سمجھایا کہ وہ دماغی ہاسپٹل لے جائیں گے جینز میں دیکھ کر ۔آخر بے دلی سے کچھ معاملہ سمجھ گئیں ۔
آخر ایک گاؤن گفٹ کر کے ہی رہیں ۔ ان دنوں یمن کے حالات بہت خراب تھے ۔اپنے رشتہ داروں کے لئے بہت متفکر تھیں۔ کچھ مسائل کی بنا پر کالج چھوڑ گئیں۔ کافی عرصے بعد آج بہت یاد آئیں۔جہاں بھی ہوں خیریت سے ہوں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: