سوچ کا کمال

کُمہار مَٹّی سے کُچھ بنا رہا تھا، کہ اُس کی بیوی نے پاس آ کر پُوچھا، کیا کر رہے ہو، کلمہار بولا حُقَّہ(چِلَم) بنا رہا ہُوں.

آج کل بہت بِک رہی ہے، کمائی اچھی ہو جائے گی، بیوی نے جواب دیا کہ زندگی کا مقصد صِرف کمائی کا ذریعہ ہی تَو نہیں، کچھ اور بھی ہے، تم میری مانو، آج صُراحی (گھڑا) بناؤ، گرمی ہے، وہ بھی خُوب بِکے گی، مگر!
ساتھ ساتھ لوگوں کی پیاس بُجھانے کے کام بھی آئے گی،
کُمہار نے کُچھ سوچا، اور مَٹّی کو نئے رُوپ میں ڈھالنا شروع کیا، تو اچانک مَٹّی نے پُوچھا، یہ کیا کر رہے ہو،
میرا رُوپ بدل دیا،
کیوں؟
کُمہار نے جواب دیا،
میری سوچ بدل گئی ہے،
پہلے تُمہارے پَیٹ میں آگ بھر رہا تھا،
اب پانی بھرے گا،
اور مَخلُوقِ خُدا نفع حاصل کرے گی،
مٹی بولی،
تُمہاری تَو صِرف سوچ بدلی ہے،
میری تَو زِندگی بدل گئی ھے،
مَیں تکلیف سے نِکل کر آسانی میں آگئی ہوں،

آپ سوچ بدلئے زِندگی خُود بَخُود بدل جائے گی•
واصف علی واصف نے کیا خوب کہا ہے
“حال بدلنا چاہتے ہو تو پہلے خیال بدلو”

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: