غور و فکر کرنے کا مقام

ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں لوگ حج کرنے جاتے ہیں. منٰی جا کر شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں.

کبھی کسی نے یہ سوچا ایک شیطان ہمارے اندر بھی ہے. ہم اپنے اندر والے شیطان کو کنکریاں کیوں نہیں مارتے؟ ہم سمجھتے ہیں ہم بے منٰی والے شیطان کو کنکریاں مار کر بہت بڑا کام کر دیا.
نہیں ہم نے کوئی بڑا کام نہیں کیا…
بڑا کام اس وقت ہو گا جب ہم اپنے اندر والے شیطان کو کنکریاں ماریں گے..
شیطان مسلسل ہم پر وار کر رہا یے ہم مخلوق کے ساتھ کچھ غلط کریں.

کامیاب وہی ہے جو شیطان کو کنکریاں مار کر, شیطان سے جنگ کر کے, اپنے ایمان پر کنٹرول کر کے ذرا برابر بھی مُخلوق پر ظلم نہیں کرتا.

عبادات کی طرف جانے سے پہلے اپنے اندر والے شیطان کو ماریں اور کہیں کچھ بھی ہو جائے کبھی کسی کے ساتھ ذرا برابر بھی غلط نہیں کرنا..

کسی کا حق نہیں کھانا.
جھٹ بول کر دھوکے کے ذریعے کسی کا حق نہیں چھیننا.
حقوق کو نظر انداز نہیں کرنا.
جس کا جو حق ہے وہ ادا کرنا ہے.
جو حقوق بیوی کے ہیں وہ ادا کرنے ہیں.
چوری نہیں کرنا.
ناپ تول میں کمی نہیں کرنا.
ملاوٹ نہیں کرنا.

غرض ایسا عمل نہیں کرنا جس کا کونیکشن مخلوق کے ساتھ ہو اور ہمارے اس عمل سے مخلوق کو ایذا ملے اور اس کی آنکھوں میں آنسو آجائیں…

اور اگر کوئی ظلم کر کے بھی عبادات کی طرف جاتا ہے وہ محض اپنے دل کو satisfy کر رہا ہے. اللہ پاک کو اس کی عبادات کی کوئی ضرورت نہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: