اَیّام بِیض کے روزوں کی فضیلت

سردیوں کا موسم مسلمانوں کے لئیے عبادات کے لحاظ سے بہت اھمیت کا حامل ھے اور اپنے ربّ خالق و مالک کو راضی اور نیک اعمال کرنے کا بہت اھم موقع ھے۔

ان نیک اعمال میں سے اَیّام بِیض یعنی ہر مھینہ 13-14-15 اسلامی تاریخ کے روزے رکھنا بھی ھے۰لہذا ابھی سے کل کے لئیے ذھنی طور پر تیار ھو جائیں اور اپنے اللہ کو راضی کریں جو بار بار قرآن میں یہی فرما رہا ھے۔فاَینَ تَذھَبُونَ تم(مجھے چھوڑ کر)کہاں جا رھے ھو ؟انّٰی تُصرَفُونَ تم(مجھ سے) کہاں پھیرے جا رھے ھو؟ما غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکرِیمتمھیں اپنے ربّ کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا ؟ایام بیض کے روزے ان عبادات اور روزوں میں سے ہے جن کی رسول اللہ ﷺنے وصیت فرمائی ہے۔چنانچہ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بيان كرتےہيں,کہ مجھے میرے خلیل (یعنی میرے جانی دوست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے ان کو نہ چھوڑوں,ہر مہینہ میں تین دن روزے(تیرہ، چودہ، پندرہ اسلامی تاریخ کو)چاشت کی نمازاور وتر پڑھ کر سونا۔(جب تہجد کی نماز پڑھنے کا ارادہ نہ ھو یا اٹھنے کا یقین نہ ھو تب)(صحیح بخاری)حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضي اللہ تعالي عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلي اللہ نے مجھے فرمايا:کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا زیادہ ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔(صحیح بخاری)دل کی صفائی اور اس کی پاکیزگی کے لئے یہ روزے نہایت ہی اہم ہیں.

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا اِرشاد ہے:الا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ صَوْم ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْر۔ترجمہ:-کيا ميں تمہيں سينہ كے دھوكہ اور وسوسہ كو ختم كر دينے والى چيز كے متعلق نہ بتاؤں ؟وہ ھے ہر ماہ كے تين روزے ركھنا۔وضاحت:-اس حدیث میں وَحَرَ الصَّدْرِ سے مراد دل کا وسوسہ یا بغض وکینہ یا عداوت ودشمنی یا شدید غصہ ہے ۔ گذارش ھے کہ ان فضائل کو زیادہ سے زیادہ شئیر share کریں تاکہ باقی مسلمان بھی ایّامِ بِیض کے روزے رکھ کر اس فضیلت میں شامل ھوں اور آپکو بھی مفت میں ثواب ملے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: