میں زینب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا

یہ الفاظ کس نے کہے!میں زینب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا.آنکھوں کو نم کر دینے والی میاں بیوی کی محبت میں ایک لازوال داستان!

ابو العاص بعثت سے پہلے ایک دن رسول اللہﷺ کےپاس آئے اور کہا: میں اپنے لیےآپ کی بڑی بیٹی زینب کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتا، گھر جا کر رسول اللہ ﷺ نے زینب سے کہا: تیرے خالہ کے بیٹے نے تیرا نام لیا ہے کیا تم اس پر راضی ہو؟
زینب کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائی، رسول اللہ ﷺ اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور ابو العاص بن الربیع کا رشتہ زینب کے لیے قبول کیا، یہاں سے محبت کی ایک داستان شروع ہوتی ہے، ابو العاص سے زینب کا بیٹا “علی” اور بیٹی”امامۃ” پیدا ہوئے۔

پھر اس محبت کی آزمائش شروع ہوجاتی ہے کیونکہ نبیﷺ پر وحی نازل ہوئی اور آپ اللہ کے رسول بن گئے، ابو العاص کہیں سفر میں تھے جب واپس آئے تو بیوی اسلام قبول کر چکی تھی، جب گھر میں داخل ہوئے بیوی نے کہا:
میرے پاس تمہارے لیے ایک عظیم خبر ہے، میرے ابو نبی بنائے گئے ہیں اور میں اسلام قبول کر چکی ہوں۔
زینب بنت رسول اللہ ﷺ کے اسلام کی خبر سن کر ابوالعاص اٹھ کر باہر نکل جاتے ہیں، زینب خوفزدہ ہو کر ان کے پیچھے پیچھے باہر نکلتی ہے۔۔۔۔ اور اپنے شوہر کو اسلام کی دعوت دیتی ہے۔۔۔۔ جس کو ابوالعاص ٹھکرا دیتے ہیں ۔۔۔

اب دونوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوا جوکہ عقیدے کا مسئلہ تھا۔
زینب رضی اللہ عنہا کہنے لگیں، میں اپنے ابو کو جھٹلا نہیں سکتی اور نہ ہی میرے ابو کبھی جھوٹے تھے وہ تو صادق اور امین ہیں، میں اکیلی نہیں ہوں میری ماں اور بہنیں بھی اسلام قبول کر چکی ہیں، میرے چاچا زاد بھائی (علی بن ابی طالب) بھی اسلام قبول کر چکے ہیں، تیرا چاچا زاد (عثمان بن عفان) بھی مسلمان ہو چکے ہیں، تیرے دوست ابو بکر بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔

ابو العاص کہنے لگے، مگر میں نہیں چاہتا کہ لوگ یہ کہیں کہ اپنی قوم کو چھوڑ دیا، اپنے آباء و اجداد کو جھٹلایا، تیرے ابو کو ملامت نہیں کرتا ہوں۔

بہرحال ابو العاص نے اسلام قبول نہیں کیا یہاں تک کہ ہجرت کا زمانہ آگیا اور زینب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول کیا آپ مجھے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں گے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے شوہر اور بچوں کے پاس ہی رہو۔

وقت گزرتا گیا اور دونوں اپنے بچوں کے ساتھ مکہ میں ہی رہے یہاں تک کہ غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا اور ابو العاص قریش کی فوج کے ساتھ اپنے سسر کے خلاف لڑنے کے لیے روانہ ہوا۔

زینب خوفزدہ تھی کہ اس کا شوہر اس کے ابا کے خلاف جنگ لڑے گا اس لیے روتی ہوئی کہتی تھی: اے اللہ میں ایسے دن سے ڈرتی ہوں کہ میرے بچے یتیم ہوں یا اپنے ابو کو کھو دوں۔

ابو العاص بن الربیع رسول اللہ ﷺ کے خلاف بدر میں لڑے، جنگ ختم ہوئی تو داماد سسر کی قید میں تھا، خبر مکہ پہنچ گئی کہ ابو العاص جنگی قیدی بنائے گئے، زینب پوچھتی رہی کہ میرے والد کا کیا بنا؟ لوگوں نے بتایا کہ مسلمان تو جنگ جیت گئے اس پر زینب نے سجدہ شکر ادا کیا۔

پھر پوچھا: میرے شوہر کو کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا: اس کو اس کے سسر نے جنگی قیدی بنا لیا ہے۔
زینب نے کہا: میں اپنے شوہر کا فدیہ (دیت) بھیج دوں گی۔
شوہر کا فدیہ دینے کے لیے زینب کے پاس کوئی قیمتی چیز نہ تھی اس لیے اپنی والدہ ام المومنین خدیجہ رضي الله عنها کا ہار اپنے گلے سے اتار دیا اور ابوالعاص بن الربیع کے بھائی کو دے کر اپنے والد ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔

رسول اللہ ﷺ ایک ایک قیدی کا فدیہ وصول کر کے ان کو آزاد کر رہے تھے اچانک اپنی زوجہ خدیجہ کے ہار پر نظر پڑی تو پوچھا: یہ کس کا فدیہ ہے؟
لوگوں نے کہا: یہ ابوالعاص بن الربیع کا فدیہ ہے، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ روپڑے اور فرمایا: یہ تو خدیجہ کا ہار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اے لوگو یہ شخص برا داماد نہیں کیا میں اس کو رہا کر دوں؟ اگر تم اجازت دیتے ہو تو میں اس کا ہار بھی اس کو واپس کردوں؟

لوگوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول!
رسول اللہ ﷺ نے ہار ابو لعاص کو تمھا دیا اور فرمایا: زینب سے کہو کہ خدیجہ کے ہار کا خیال رکھے۔
پھر فرمایا: اے ابو العاص کیا میں تم سے تنہائی میں کوئی بات کر سکتا ہوں؟
ان کو ایک طرف لے جا کر فرمایا: اے ابوالعاص اللہ نے مجھے کافر شوہر اور مسلمان بیوی کے درمیان جدائی کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے میری بیٹی کو میرے حوالے کرو گے؟
ابو العاص نے کہا: جی ہاں۔
دوسر طرف زینب شوہر کے استقبال کے لیے گھر سے نکل کر مکہ کے داخلی راستے پر ان کی راہ دیکھ رہی تھی، جب ابو العاص کی نظر اپنی بیوی پر پڑی فورا کہا: آپ جا رہی ہو۔
زینب نے کہا: کہاں ؟
ابو العاص: آپ اپنے باپ کے پاس جانے والی ہو ۔
زینب: کیوں؟
ابو العاص: میری اور تمہاری جدائی کے لیے، جاو اپنے باپ کے پاس چلی جاو۔
زینب: کیا تم میرے ساتھ جاو گے اور اسلام قبول کرو گے؟
ابو العاص: نہیں۔
زینب اپنے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینہ منورہ چلی گئیں جہاں 6 سال کے دوران کئی رشتے آئے مگر زینب نے قبول نہیں کیے اور اسی امید سے انتظار کرنے لگی کہ شوہر شاید اسلام قبول کر کے آئے گا۔
6 سال کے بعد ابو العاص ایک قافلے کے ساتھ مکہ سے شام کے سفر پر روانہ ہوا، سفر کے دوران راستے میں صحابہ کی ایک جماعت نے ان کو گرفتار کر کے ساتھ مدینہ لے گئے، مدینہ جاتے ہوئے زینب اور ان کے گھر کے بارے میں پوچھا، فجر کی آذان کے وقت زینب کے دروازے پر پہنچا۔

زینب رضی اللہ عنہا نے ان پر نظر پڑتے ہی پوچھا کیا اسلام قبول کر چکے ہو؟
ابو العاص: نہیں۔
زینب: ڈرنے کی ضرورت نہیں خالہ زاد کو خوش آمدید، علی اور امامہ کے باپ کو خوش آمدید۔
رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی تو مسجد کے آخری حصے سے آواز آئی کہ: میں ابو العاص بن الربیع کو پناہ دیتی ہوں۔
نبی ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے سن لیا جو میں نے سنا ہے؟
سب نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسولﷺ۔
زینب نے کہا: اے اللہ کے رسول ابو العاص میرا خالہ زاد ہے اور میرے بچوں کا باپ ہے میں ان کو پناہ دیتی ہوں۔

نبی ﷺ نے قبول کر لی اور فرمایا: اے لوگو یہ برا داماد نہیں، اس شخص نے مجھ سے جو بھی بات کی سچ بولا اور جو وعدہ کیا وہ نبھایا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ اس کو اس کا مال واپس کر کے اس کو چھوڑ دیا جائے یہ اپنے شہر چلا جائےیہ مجھے پسند ہے۔ اگر نہیں چاہتے ہو تو یہ تمہارا حق ہے اور تمہاری مرضی ہے میں تمہیں ملامت نہیں کروں گا۔
لوگوں نے کہا:ہم اس کا مال اس کو واپس کر کے اس کو جانے دینا چاہتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے زینب تم نے جس کو پناہ دی ہم بھی اس کو پناہ دیتے ہیں۔
اس پر ابو العاص زینب کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے زینب سے فرمایا: اے زینب ان کا اکرام کرو یہ تیر ا خالہ زاد ہے اور تمھارے بچوں کا باپ ہے مگر یہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں۔
زینب نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول۔
گھر جا کر ابو العاص بن ربیع سے کہا: اے ابو العاص جدائی نے تجھے تھکا دیا ہے کیا اسلام قبول کر کے ہمارے ساتھ رہو گے۔
ابو العاص: نہیں۔

اپنا مال لے کر مکہ روانہ ہو گئے جبکہ مکہ پہنچے تو کہا: اے لوگو: یہ لو اپنے اپنے مال، کیا کسی کا کوئی مال میرے ذمے ہے؟
لوگوں نے کہا: اللہ تمہیں بدلہ دے تم نے بہتر وعدہ نبھایا۔

ابو العاص نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔اس کے بعد مدینہ روانہ ہوئے اور جب مدینہ پہنچے تو پھر فجر کا وقت تھا، سیدھا نبی ﷺ کے پاس گئے اور کہا: کل آپ نے مجھے پناہ دی تھی اور آج میں یہ کہنے آیا ہو کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
ابو العاص رضي الله عنه نے کہا: اے اللہ کے رسول کیا مجھے اپنی بیوی زینب کے ساتھ رجوع کی اجازت دیتے ہیں؟
نبی ﷺ ابوالعاص کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : آو میرے ساتھ، زینب کے دروازے پر لے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور زینب سے فرمایا: یہ تمہارا خالہ زاد واپس آیا ہے تم سے رجوع کی اجازت مانگ رہا ہے کیا تمہیں قبول ہے؟
زینب کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائی۔۔۔۔
رجوع کے ایک سال بعد سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئیں ۔۔۔۔

اس واقعہ کا اہم اور درد ناک پہلو یہ رہا کہ حضرت أبوالعاص زینب رضي الله عنها کی وفات کے بعد کہنے لگے: يارسول الله “إني لا أطيق العيش بدون زينب.”
اے اللہ کے رسول! میں زینب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، رسول اللہﷺ آپ کے سر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دیتے اور ڈھارس بندھاتے۔
ومات بعدها بسنة … !
زینب رضی اللہ عنھا کی وفات کے ٹھیک ایک سال بعد سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ اسی غم میں اپنے رب کو جاملے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: