زبان کا فتنہ

وہ خوشی سے چہک رہی تھی۔جلدی پہنچو۔تم خالہ بن گئی ہو۔امی کو ساتھ لیے ہاسپٹل پہنچی پیارا گول مٹول صحت مند بچہ دیکھ کر ماشاءاللہ پڑھا۔

ماں کے ساتھ بیڈ پر لیٹا بچہ ممتا کے رنگوں سے بھرپور منظر تھا۔وہ مرجھائی اور بجھی بجھی سی لگی۔پوچھا کیا بات ہے خیر تو ہے ۔فون پر تو چہک رہی تھی۔کہنے لگی ایک بات بتاؤ کیا آپریشن ہونا کوئی خطرناک بات ہے ۔میری نند کہہ رہی تھی۔ہاۓ بے چاری کا آپریشن ہوا۔آدھی
ادھوری ہو گئی بھابھی بے چاری ۔بس دل اس بات سے بجھ سا گیا ہے۔لگتا ہے میں نارمل زندگی نہ گزار پاؤں گی ۔۔۔۔ دن میں ہزاروں عورتوں کے آپریشن دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ایسا ہوتا تو دنیا کی آدھی عورتیں بے چارگی میں پڑی ہوتیں۔
عجیب کیفیت ہوئی۔ اتنی بڑی اور انوکھی سی خوشی کسی کے ایک جملے کی نظر ہو گئی تھی۔
کل ہی پڑوس سے ایک لڑکی آئی۔کافی دیر بیٹھی رہی۔شام ڈھلے بھی جیسے جانا نہ چاہتی تھی۔پوچھا کیا بات ہے۔کیا گھر والوں سے کوئی ناراضگی ہے۔کچھ دیر چپ رہی جیسے کچھ ضبط کر رہی ہو۔
پھر بولی باجی بتائیں۔ کیا قسمت،شکل و صورت کسی کے اختیار میں ہوتی ہے۔میری شادی تین سال پہلے ہوئی ۔شوہر مرگی کا مریض ہے۔ کوشش کرتی رہی ہوں گھر بسانے کی۔لیکن ساس نندوں سے یہ بھی برداشت نہیں۔دن بھر باتیں سناتی ہیں ۔کہ دونوں میاں بیوی بوجھ ہیں۔امی کے گھر کچھ سکون کے لئے آئی ہوں تو بھابھیاں دن رات کریدتی اور عجیب نظروں سے دیکھتی سرگوشیاں کرتی ہیں۔سمجھ نہیں آتا کہاں جاؤں۔دل چاہتا ہے کہیں ایسی جگہ بھاگ جاؤں جہاں کوئی کچھ نہ کہہ سکے۔وہ ہچکیوں کے درمیان بول نہ پا رہی تھی۔
مجھے گاؤں میں گزرا اپنا بچپن یاد آیا۔سب سے قابل نفرت یہی زبان کا فتنہ تھا ۔ہر فرد دوسرے کے کمزور پہلو کی تلاش میں سرگرداں ، زبان سے ڈستا، ریاکاری ،دوسروں کو نیچا دکھانے کی دوڑ نےوہاں کی پرفضا آب وہوا کو بھی آلودہ کر ڈالا تھا۔
ہم نفسیاتی طور پر بیمار معاشرے کا حصہ ہیں۔المیہ تو یہ ہے کہ اس بیماری کا شعور بھی نہیں کہ علاج کر پائیں۔ سکون ناپید ہے۔ہمارےکمزوروں پر زبانی کلامی حملے کرنا ہر طاقتور اپنا حق سمجھتا ہے۔ طاقت حاصل ہوتے ہی چکر الٹا گھومنے لگتا ہے۔
پھر ہم ہوتے ہیں اور لوگوں کی کمزوریاں۔،سن گن لینا ہمارے معمول کا حصہ بن جاتا ہے۔ فلاں کہاں گیا ،کیوں گیا،اتنے دن سے واپس کیوں آیا۔اب تمھارا کیا بنے گا۔ہاے بے چاری ،بچے کتنے،رشتہ کیوں نہیں ہوا، بچے بچاروں کا کیا ہو گا ۔ کبھی آنکھوں میں مصنوعی آنسو لا کر اگلوانا۔ وطیرہ بن گیا ہے۔جیسے زندگی کا اور کوئی مقصد ہی نہیں۔
اس کیفیت میں ایک حدیث مبارکہ پہلی دفعہ سمجھ آئی۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کے زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔زبان کا ذکر پہلے فرمایا۔
گویازبان پر پہرے بٹھانا لازم قرار پایا۔کہ فتنہ کی جڑ یہی ہے
اور وعید کہ ایسا شخص مسلمان ہی نہیں۔جسکی زبان کے،ہاتھ کے شر سے دوسرے محفوظ نہ ہوں۔

ہمارے ایک استاد کہا کرتے ۔کہ قتل کی کئی قسموں میں سے ایک بڑی قسم زبان سے قتل ہے۔اور ایسے قاتلوں سے معاشرہ بھرا پڑا ہے۔جو لمحے لمحے معاشرے کا لہو چوستے ہیں۔
ایسوں کے لئے پھانسی کی سزا بھی کم ہے۔بلکہ اتنی بڑی کوئی سزا ہی نہیں۔جس سے تلافی ممکن ہو۔
کاش کہ ہم زبان کی حفاظت سے اس بڑی قتل و غارت سے بچنے کا سامان کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: