ٹائپ رائٹر ۔۔۔ بھول گئے تیری کھٹ کھٹ

اولڈ کراچی ۔۔۔ دنیا بدل گئی دیکھتے دیکھتے
ٹائپ رائٹر ، گھڑی ، گھڑا ، پھکنی ، صراحی وغیرہ کیا ہوئے ! جانیے اس تحریر میں اولڈ کراچی سے وابستہ کچھ یادیں

سالوں بیت گئے مگر کل ہی کی بات لگتی ہے ۔ اولڈ کراچی میں ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ جب میٹرک کے امتحان کے بعد ٹائپنگ انسٹیٹیوٹ جانا لازمی تھا ۔ انسٹیٹیوٹ کیا ؟ ہر محلے میں ایک دکان میں پانچ سے دس پرانے ٹائپ رائٹرز ہوتے ۔ روزانہ ایک گھنٹے جا کر بہت ہی خستہ کاغذوں پر ٹائپنگ کی مشق کرتے ۔ زیادہ زور سے ٹائپ کیا تو کاغذ ہی اس جگہ سے پھٹ جاتا ۔ مہینے کی فیس چند روپے ہوا کرتی ۔ عام طور پر انسٹیٹیوٹ پر مالک نہ ہوتا بلکہ کوئی واجبی سی ٹائپنگ جاننے والا آدمی بٹھا دیا جاتا جس کا سن پیدائش ٹائپ رائٹر سے بھی پہلے کا ہوتا ۔

ٹائپنگ سیکھنے کی منطق بڑی نرالی تھی ۔ یہی کہا جاتا : بھائی ٹائپنگ سیکھ لو ۔ جتنے بڑے افسر بن جاو ۔ کسی دن ٹائپسٹ نہ آیا تو ٹائپنگ خود کرنی پڑے گی ۔ کسی کی محتاجی تو نہ ہو گی ۔ ہم بھی ٹائپنگ سیکھنے گئے ۔ کچھ دن دھیان دیا پھر وہی کاہلی آڑے آئی اور آج تک ٹائپنگ نہ آسکی۔ آج بھی ایک انگلی سے ٹائپ کرتے ہیں ۔ بچے دیکھ کر ہنستے ہیں : پپا کیا ہو گیا ہے ۔ اتنی سی چیز نہیں آتی ۔ اب انہیں کیا بتائیں جب اس عمر میں نہ سیکھ پائے تو اب کیا سیکھیں گے ۔

ٹائپ رائٹر جس کی کھٹ کھٹ کا ہمارے زمانے میں طوطی بولتا تھا اسے کمپیوٹر بڑی خاموشی سے کباڑیے کی دکان پر دے آیا بلکہ میرا خیال اب رگ oیہ وہاں بھی نہیں ہوگا ۔ البتہ سرکاری دفاتر کے باہر بیٹھے ایفیڈیوٹ اور ایسے دیگر کاغذات بنانے والے اسے نام ڈالنے کی حد تک استعمال کر لیا کرتے ہیں ۔

گھڑی ۔۔۔ اپنا وقت یاد دلا دیتی ہے

میٹرک کیا تو نمبروں والی گھڑیاں آگئیں ۔ بڑا ارمان تھا گھڑی کلائی میں باندھنے کا ۔ چچا کے پورٹ پر ملازم ایک دوست کے پاس یہ گھڑیاں آئیں تو اچھا نے ان سے دو گھڑیاں فی کس 100 روپے خرید لیں ۔ ایک میرے اور ایک میرے کزن کے لیے ۔ وہ گھڑی کلائی میں کیا باندھی ، لگا کہ دنیا کی ساری دولت اور وقت اپنے ہاتھ آ گیا ۔ آئینے میں کھڑے ہو کر دیکھتے کہ ہاتھ میں گھڑی کیسی لگ رہی ہے ۔ بار بار اس کے فیچرز چیک کرتے ۔ گھڑی گھڑی ، گھڑی ایسے دیکھتے جیسے ہم نے نہ دیکھا تو وقت رک جائے گا ۔ وہ تو بڑے ہو کر پتا چلا کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ۔

گھڑی کو رات سوتے وقت اتار کر تکیہ کے نیچے رکھ لیتے ۔ چاہے کسی خاص وقت اٹھنا ہو کہ نہ ہو الارم لگاتے کہ گھڑی کو تو جاگتا رکھیں ۔ وہ نمبروں والی گھڑی اب بھی کبھی کسی دراز میں پڑی مل جاتی ہے تو ہماری دراز عمری کے ساتھ ساتھ بہت پیچھے بھی لے جاتی ہے ۔ پہلے وقت دیکھتے تھے ۔ اب اسے دیکھ کر گزرے دنوں کا اچھا برا وقت یاد آتا ہے ۔

موبائل نے کلائی سے وقت لے کر ہاتھ میں تھمائی دی اور گھڑی سے کہا اب تم اپنا راستہ لو ۔ آج بھی کچھ لوگ گھڑی باندھتے ہیں مگر زیادہ تر اپنا اسٹیٹس دکھانے کے لیے یا پھر وہ پرانے زمانے کے دوست جو نئے زمانے میں آ تو گئے مگر رہتے اسی زمانے میں ہیں ۔

پُھکنی ۔۔۔ جب پڑتی بھول جاتے کس انگ سے ناچنا ہے

پہلے گھروں میں لکڑی کے چولھے ہوا کرتے تھے ۔ لکڑی کو آگ لگانے کے لئے ایک عدد پھکنی ہوا کرتی تھی ۔ جب آگ حسب آرزو نہ لگتی تو پھکنی کے ذریعے پھونکیں مار مار کر آگ لگائی جاتی ۔ لکڑیاں اگر گیلی ہوتیں تو اس کا دھواں آنسو نکال دیا کرتا ۔ پُھکنی کا یہ استعمال تو باورچیانہ تھا لیکن بچوں کے لیے یہ آلات تشدد میں آتا ۔ جہاں کسی بچے نے شرارت بہ حد عدم برداشت کی وہیں چولھے پر بیٹھی ماں کے پاس سے جو چیز بچے کی طرف روانہ کی جاتی وہ یہی پُھکنی ہوتی ۔ لوہے کی یہ پُھکنی اگر جسم اقدس کو جا لگتی تو سمجھ لیں پورا جسم چار پانچ سیکنڈ کے لیے رقص کناں ہو جاتا ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس انگ سے ناچنا ہے ۔

اسٹو (Stove) ۔۔۔ تیل کہیں ، آگ کہیں ۔ ساس بہو کا کھیل لگتا

لکڑی کے چولھوں کے بعد Stove آگئے ۔ یہ بتیوں والا گول چولھے جس کا آخری حصہ نیچے مٹی کے تیل میں تر بتر ہوتا اور اوپر آگ لگا رہا ہوتا ۔ لگتا ساس بہو کا کھیل چل رہا ہے۔ تیل کہیں اور آگ کہیں ۔ Stove لکڑی کے چولھے کو کھا گیا اور پھر گیس کے چولھے آئے اوراس کے بعد اوون نے کچن پھر اپنا قبضہ جما لیا ۔۔ لگتا ہے باورچی خانہ کچن کیا ہوا ۔ جنگل کا قانون نافذ ہو گیا ۔ ہر بڑی چیز چھوٹی چیز کو کھاتی گئی ۔ عورتیں Stove کا نام خوب ہی بگاڑ بگاڑ کر لیا کرتیں ۔

ریڈیو ۔۔۔ ٹی وی نے گرد جما دی ، آواز دبا دی

پہلے ریڈیو تھا تو زندگی تھی ۔ رات ڈراما آتا تو سب اس کے گرد خمع ہو جاتے لیکن پھر اس ریڈیو پر ٹی وی کی سرپٹ دوڑ اور مقبولیت نے گرد جما دی ۔ ٹی وی کی حکومت سالوں رہی ۔ ڈرامے آتے تو لوگ مرنے کے علاوہ ہر خوشی غمی آگے بڑھا دیتے ۔ روڈ سنسان ہو جایا کرتے ۔ اسمارٹ فون کے آنے سے اب ٹی وی دیکھنے کی پابندی والا دور بھی لپٹ گیا ۔ اب آپ جب چاہیں اپنی سہولت سے جس ٹی وی کا جو پروگرام چاہیں دیکھ لیں ۔ اب ٹی وی چل بھی رہا ہو تو اس وقت بھی لوگ اپنے موبائل پر مصروف ہوتے ہیں ۔ موبائل نے ٹی وی کا ٹینٹوا دبا دیا ہے ۔ ٹی وی کی یہ بے قدری ریڈیو کی بد دعا ، اُفتاد زمانہ اور ترقی کا شاخسانہ ہے ۔

تصویریں ۔۔۔۔ جب کاغذ پر تھیں تو بولتی تھیں

پہلے کیمرے سے تصویریں کھینچتی تھیں ۔ فلم دھلنے جاتی تو سب کو بے تابی سے انتظار ہوتا ۔ سب کچھ ڈارک میں ہوتا کسی کو کچھ پتہ نہ ہوتا کہ کون کیسا نظر آئے گا ۔ تصویر کاغذ پر ہوتی تو لگتا بول رہی ہے ۔ جس کی تصویر اچھی آجاتی وہ اترائے اترائے پھرتا ( اکثر پھرتی ) اور جس کی تصویر ذرا ویسی آجاتی تو اس کا بس نہ چلتا کہ تصویر ہی پھاڑ دے ۔ جس لڑکی کی تصویر اچھی آتی وہ اکیلے میں اپنی تصویر دیکھتی ۔ اس نے سوچا بھی نہ ہوتا کہ اس کی یہ تصویر کسی دن لڑکے والوں کے ہاتھوں میں ہو گی ۔

اسمارٹ فون نے فوٹوسٹوڈیوز کو صرف پاسپورٹ سائز تصویروں تک محدود کر دیا ۔ اب جس کا جتنا اور جس اینگل سے دل چاہے ، تصویریں کھینچے ۔ جب چاہے ڈیلیٹ کرے ۔ اب فوٹو گرافی تقریباًت میں ہی نظر آتے ہیں ۔ یہ حال شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں ویڈیوز کا بھی رہا ۔ اب شادی میں دولھا دلہن سے زیادہ لڑکے لڑکیاں اپنی ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیں ۔ زوم کر کے ان کی بھی بنا لیتے ہیں جنہیں بعد میں دیکھنا چاہیں ۔لیکن اس سے کے مضمرات بھی بہت ہیں ۔

گھڑا / صراحی ۔۔۔۔ ان کے جانے سے گھڑوں پانی پڑ گیا

پہلے گھروں میں گھڑے اور صراحیاں ہوا کرتے تھے ۔ واہ کیا ٹھنڈا پانی ہوا کرتا تھا۔ فریج کا ٹھنڈا پانی تو گلا پکڑ لیتا ہے مگر گھڑے اور صراحی کا پانی قدرتی طور پر ٹھنڈا ہوا کرتا تھا ۔ برف گھروں میں کہاں ہوتا تھا ۔ جب لوگوں نے گھڑوں اور صراحیوں سے ہاتھ اٹھا لیا اور واٹر کولروں کے انگریزی چکر میں پڑ گئے تو پھر گھروں پر گھڑوں پانی پڑ گیا ۔ صراحی کی گردن ہی شرم سے جھک گئی ۔

باسکٹ ۔۔۔ شاپر نے زندگی سے کٹ کر دی

پہلے گھر سے سودا لینے نکلتے تو سب کے ہاتھوں میں باسکٹ لازمی تھی ۔شاپرز نے آکر سودا لانے کا رومانس ہی تباہ کردیا ۔ پہلے سامان عزت سےایا کرتا تھا ۔ اب شاپرز میں ٹھونس کر آتا ہے ۔لگتا ہے کہ شاپر میں پھوڑے نکل آئے ہیں ۔ سامان لے کر کچھ چلتے ہیں جب گھر آکر نکالتے ہیں تو اس کا برا حال ہوتا ہے ۔ کہیں تو شکل پہچانی نہیں جاتی ۔ سامان خود کہہ اٹھتا ہے ۔

جیسی اب ہے میری صورت کبھی ایسی تو نہ تھی

یہ فہرست بہت طویل ہے ۔ اس حوالے سے سب کے پاس یادوں کے خزانے ہیں ۔ تو پھر کھولیے پٹاری ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: