فارسی حکایت

روایت ھے کہ ایک فقیر ایک درویش کی ملاقات کو آیا جس سے اُسے بڑی عقیدت تھی۔ کیا دیکھتا ھے ک

درویش ایک مخملیں غالیچے پر بیٹھا ھوا ھے اور اس کے سر پر ریشمی کپڑے کی جھونپڑی تنی ھے جس کو سونے کی میخوں سے زمیں میں گاڑا گیا ھے۔

فقیر نے جب یہ سب دیکھا تو فریاد کرنے لگا: “پیر و مرشد یہ سب کیا ھے؟ میں تو آپ کے زھد و خدا پر توکّل کی وجہ سے آپ کا مرید بنا تھا۔ اب یہ شان و شوکت دیکھ کر میں دنگ رہ گیا ھوں۔”
درویش نے ھنس کر کہا: “میں تیّار ھوں کہ یہ سب کچھ ترک کر کے تمہارے ھمراہ چلوں۔”
یہ کہہ کر درویش اٹھا اور فقیر کے ساتھ چل پڑا۔ اُس نے اتنی زحمت بھی نہیں کی کہ اپنے چپّل ھی پہن لے۔
کچھ دور چلنے کے بعد فقیر کہنے لگا: “میں اپنا کشکول تو آپ کے خیمے میں بھول آیا۔ اُس کے بغیر میرا گزارہ کیسے ھو سکتا ھے؟ آپ رکیں! میں ابھی جا کر کشکول اٹھا لاتا ھوں۔”
درویش نے پھر ھنس کے کہا: “میرے دوست! میرے چھونپڑی کی سونے کی میخیں زمین میں دھنسی ھیں میرے دل میں نہیں۔ لیکن تمہارا کشکولِ گدائی ابھی بھی تمہارے تعاقب میں ھے۔”
دنیا میں زندگی گزارنے کا مطلب وابستگی نہیں ھے۔ دنیا کا تصوّر ذھن میں بٹھانا وابستگی ھے۔ دنیا آپ کے دماغ سے نکلے گی تو خدا سے وارستگی حاصل ھو گی۔
حکایت ہای پندآموزِ فارسی

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: