سورہ کہف میں بیان کردہ اہم واقعات

سورہ کہف میں اللہ نے حضرت خضر ع اور حضرت موسیٰ ع کا واقع بیان فرمایا۔

۔ اور اس ایک واقع میں تین واقعات ہیں اور ہمیں اللہ ان تین واقعات کے زریعے سمجھاتا ہے کہ تم ظاہر کو دیکھتے ہو حالانکہ حقیقت اس کے پیچھے کچھ اور ہوتی ہے۔ ظاہر کبھی کڑوا ہوتا ہے، کبھی عجیب ہوتا ہے، پریشان کن ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے مٹھاس ہوتی ہے، اللہ کی مصلحت اور رحمت چھپی ہوتی ہے۔

جب حضرت موسیٰ ع حضرت خضر ع سے ملتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کیا میں آپ کے ساتھ چلوں کہ آپ مجھے بھی سکھا دیں اس بھلی راہ میں سے جو اپکو عطا کی گئ ہے (یعنی وہ علم جو اپکو دیا گیا ہے آپ مجھے بھی اس میں سے کچھ سکھا دیں)۔ تو حضرت خضر ع نے کہا آپ تو میرے ساتھ صبر کی نہیں کر سکیں گے تو حضرت موسیٰ ع نے کہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔ حضرت خضر ع کہتے ہیں ٹھیک ہے لیکن پھر آپ مجھ سے کسی بارے میں پوچھئے گا مت یہاں تک کہ میں خود آپ سے اسکا ذکر کروں۔ اب اس کے بعد تین واقعات ہوتے ہیں سب سے پہلے حضرت خضر ع اور حضرت موسیٰ ع کشتی میں سوار ہوۓ تو حضرت خضر ع نے اس کشتی میں سوراخ کردیا، حضرت موسیٰ ع نے کہا آپ نے اس میں سوراخ کر ڈالا کیا آپ اس کے سواروں کو غرق کرنا چاہتے ہیں یہ تو بڑے خطرے کی بات کر ڈالی آپ نے تو حضرت خضر ع فرماتے ہیں میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے، حضرت موسیٰ ع کہتے ہیں اس پر میری پکڑ نہ کریں جو میں بھول گیا میں سیکھنا چاہتا ہوں، پھر وہ آگے چلے اور ایک لڑکے سے ملے اور حضرت خضر ع نے اسے قتل کر دیا تو حضرت موسیٰ ع کہتے ہیں آپ نے ایک پاک جان کو قتل کر ڈالا آپ نے تو بہت ہی نا پسندیدہ کام کیا بچہ مار دیا، قتل کردیا لڑکے کو، حضرت خضر ع کہتے ہیں میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ ہر گز صبر نہیں کر سکیں گے۔ حضرت موسیٰ ع کہتے ہیں اچھا بھائ اب اگر میں آپ سے کسی بھی شے کے بارے میں پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ مت رکھئے گا۔ پھر وہ آگے چلے گاوں والوں کے پاس آئے ان سے آپ نے کھانا مانگا تو انہوں نے انکار کر ڈالا، وہاں حضرت خضر ع نے ایک دیوار دیکھی جو گرنا چاہتی تھی لیکن حضرت خضر ع نے اسے ٹھیک کر دیا تو حضرت موسیٰ ع سے رہا نہ گیا انہوں کہا اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے، (آپ نے فری میں کام کر دیا، انہوں نے کھانا نہیں کھلایا، بھوک بھی لگی ہے، اجرت لے لیتے تاکہ کچھ کھانے پینے کا انتظام ہوجاتا)۔ حضرت خضر ع نے فرمایا کہ اے موسیٰ اب معاملہ ختم۔ میں اپکو حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کر سکے ۔ اب پردے ہٹیں گے اور حقیقت سامنے آۓ گی، ان واقعات کا اصل مقصد ہی ظاہر پرستی کا رد ہے۔
اب حضرت خضر ع کہتے ہیں کہ میں نے کشتی میں سوراخ اس لۓ کیا کہ یہ کشتی مسکینوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کا کام کرتے تھے اور آگے ایک بادشاہ ہے جو زبردستی کشتیوں کو پکڑ لیا کرتا تھا تو اگر اس میں نقص ہوگیا تو انکی کشتی بچ گئ، چھوٹے نقصان کے بدلے بڑے نقصان سے بچا لیا۔
اب دوسرا واقع، یعنی وہ لڑکا جسکو میں نے قتل کیا(اللہ کے حکم سے) اس کے ماں باپ مومن تھے، اور یہ خدشہ تھا کہ وہ انہیں کفر میں پھنسا دے گا اس لیے ہم نے اسے قتل کر دیا۔ (وہ لڑکا ابھی چھوٹا تھا، نابالغ تھا تو اس سے سوال نہیں ہوگا وہ جنت میں گیا اور اس کے بدلے اللہ نے انہیں بہتر اولاد سے نواز دیا جو پاکیزگی کے اعتبار سے بہتر تھی)
تیسرا واقع وہ دیوار ہم نے اس لیے ٹھیک کردی کہ اس کے نیچے دو یتیم بچوں کا خزانہ دفن ہے جو انکے باپ نے چھوڑا تھا تو اللہ نے چاہا کہ یہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور وہاں سے اپنا خزانہ نکال لیں اس لۓ میں نے دیوار کو سیدھا کردیا ۔
ان تینوں واقعات سے اللہ ہمیں سمجھاتا ہے کہ جو دکھ رہا ہوتا ہے وہ ویسا نہیں ہوتا بلکہ ان سب کے پیچھے اس کی بڑی مصلحت چھپی ہوتی ہے۔ ان بدلتے حالات میں ہم سب پہ بھی بہت کچھ بیتتا ہے، کڑوی باتیں سامنے آتی ہیں اپنوں میں سے اور ہمیں نہیں پتہ کہ اس کے بعد اللہ اس میں سے کیا خیر مجھے اور اپکو عطا فرمادے۔ اس لۓ معاملات کو اللہ کے حوالے کریں اور جو کچھ بیت رہا ہے، جو بھی ہو رہا ہے آپ کی زندگی میں، بھلے ہی اپکو ابھی وہ برا لگ رہا ہو لیکن ہمیں نہیں پتہ اللہ نے اس کے پیچھے کیا مصلحت رکھی ہے۔ جو بھی آپ پر بیت رہا ہے اسکا بہت زیادہ اثر نہ لیں خود پر، اور نہ پریشان کریں خود کو اللہ نے ہر معاملے میں ہمارے لئے خیر چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔ اس لیے اپنے معاملات اللہ کے حوالے کریں اور اسکی پلینیننگ پر یقین رکھیں، بظاہر کبھی ہمیں سب کچھ خراب ہوتا نظر آرہا ہوتا ہے لیکن کیا پتہ اللہ اس میں سے ہی ہمارے لئے خیر نکال دے۔ بس صبر کریں کیونکہ صبر سے ہی ہر چیز واضح ہو جاتی ہے اور بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ آپکی زندگی میں بھی اگر کچھ مشکل ہے اور بظاہر سب خراب نظر آرہا ہے تو آج اس واقع سے اپنے دل کو یقین دلائیں کہ اللہ کے ہر کام میں خیر چھپی ہے بھلے ہمیں نظر آۓ یا نہ آۓ۔ ہمیں چھوٹی مشکل دے کر بڑے نقصان سے بچا لیا جاتا ہے۔ چھوٹا دکھ دے کر بڑی خوشیوں سے نواز دیا جاتا ہے۔بس یقین رکھیں بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

جزاک اللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: