عرب ڪـی ایڪ مشہور عالمہ ڪـی اپنی بیٹی ڪـو دس وصیتیں

بچیاں ضرور پڑھیں

عرب ڪـی ایڪ مشہور عالمہ نے اپنی بیٹی ڪـو دس نصیحتیں ڪیں ان دس نصیحتوں میں ایسی باتیں موجود ہیں جو قیامت تڪ آنے والی عورتوں ڪـے لیـے مشعل راہ ہیں، عالمہ نے اپنی بیٹی ڪـو مخاطب ڪـرتے ہوئے ڪـہا ڪہ

① میری آنڪھوں ڪـی ٹھنڈڪ، شوہر ڪـے گھر جا ڪـر قناعت والی زندگی گزارنے ڪـی ڪوشش ڪرنا، شوہر ڪـے گھر جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا جو روڪھی سوڪھی شوہر ڪـی خوشی ڪـے ساتھ مل جائے وہ اس مر غ پلاؤ سے بہتر ھـــــے جو تمہارے اصرار ڪرنے پر اس نے ناراضگی سے دیا ہو۔

② میری بیٹی، اپنے شوہر ڪـی بات ڪـو ہمیشہ توجہ سے سننا اور اس ڪـو اہمیت دینا اور ہر حال میں شوہر ڪـی بات پر عمل ڪرنے کی ڪوشش ڪرنا، اس طرح تم ان ڪـے دل میں جگہ بنا لو گی ڪیونڪہ اصل آدمی نہیں آدمی ڪا ڪام پیارا ہوتا ھـــــے۔

③ اپنی زینت و جمال ڪا ایسا خیال رڪھنا ڪہ جب وہ تجھے نگاہ بھر ڪـے دیڪھے تو اپنے انتخاب پر خوش ہو اور سادگی ڪـے ساتھ جتنی بھی استطاعت ہو خوشبو ڪا اہتمام ضرور ڪرنا اور یاد رڪھنا ڪہ تیرے جسم و لباس ڪـی ڪـوئی بو یا ڪـوئی بری ہیئت اس ڪـے دل میں نفرت و ڪراہت نہ دلائے.

④ میری پیاری بیٹی اپنے شوہر ڪـی نگاہ میں بھلی معلوم ہونے ڪـے لیـے اپنی آنڪھوں ڪـو سرمے اور ڪاجل سے حسن دینا ڪیونڪہ پرڪشش آنڪھیں پورے وجود ڪـو دیڪھنے والے ڪـی نگاہوں میں جچا دیتی ہیں، غسل اور وضو ڪا اہتمام ڪرنا ڪہ یہ سب سے اچھی خوشبو ھـــــے اور لطافت ڪا بہترین ذریعہ بھی ھـــــے۔

⑤ بیٹی شوہر ڪا ڪھانا وقت سے پہلے ہی اہتمام سے تیار رڪھنا ڪیونڪہ دیر تڪ برداشت ڪـی جانے والی بھوڪ بھڑڪتے ہوئے شعلے ڪـی مانند ہو جاتی ھـــــے اور شوہر ڪـے آرام ڪرنے اور نیند پوری ڪرنے ڪـے اوقات میں سڪون کا ماحول بنانا ڪیونڪہ نیند ادھوری رہ جائے تو طبیعت میں غصہ اور چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ھـــــے۔

⑥ بیٹی شوہر ڪـے گھر اور ان ڪـے مال ڪـی نگرانی یعنی ان ڪـی اجازت ڪـے بغیر ڪـوئی گھر میں نہ آئے اور ان ڪا مال لغویات، نمائش و فیشن میں برباد نہ ڪرنا ڪیونڪہ مال ڪـی بہتر نگہداشت حسن انتظام سے ہوتی ھـــــے اور اہل عیال ڪـی بہتر حفاظت حسن تدبر سے ہوتی ھـــــے۔

⑦ شوہر ڪـی راز دار رہنا، ان ڪـی نافرمانی نہ ڪرنا ڪیونڪہ ان جیسے بارعب شخص ڪـی نافرمانی جلتی پر تیل ڪا ڪام ڪرے گی اور تم اگر اس ڪا راز دوسروں سے چھپا ڪـر نہ رڪھ سڪی تو شوہر ڪا اعتماد تم پر سے ہٹ جائے گا اور پھر تم بھی اس ڪـے دو رخے پن سے محفوظ نہیں رہ پاؤ گی۔

⑧ میری بیٹی جب تمہارا شوہر ڪـسی بات پر غمگین ہو تو اپنی ڪـسی خوشی ڪا اظہار اس ڪـے سامنے نہ ڪرنا یعنی اپنے شوہر کے غم میں شریڪ رہنا۔ شوہر ڪـی ڪـسی خوشی ڪـے وقت غم ڪـے اثرات چہرے پر نہ لانا اور نہ ہی شوہر سے ان ڪـے ڪـسی رویـے ڪـی شڪایت ڪرنا۔ اپنے شوہر ڪـی خوشی میں خوش رہنا۔

⑨ بیٹی اگر تم شوہر ڪـی نگاہوں میں قابل احترام بننا چاہتی ہو تو اس ڪـی عزت اور احترام ڪا خوب خیال رڪھنا اور اس ڪـی مرضی ڪـے مطابق چلنا تو تم شوہر ڪـو بھی زندگی ڪـے ہر لمحے اپنا بہترین رفیق پاؤ گی۔

⑩ بیٹی میری اس نصیحت ڪـو پلو سے باندھ لو اور اس پر گرہ لگا لو ڪہ جب تڪ تم ان ڪـی خوشی اور مرضی ڪـی خاطر ڪئی بار اپنا دل نہیں مارو گی اور اپنے شوہر ڪـی بات رڪـھنے ڪـے لیـے تمہیں اپنی پسند و ناپسند اور دیگر ڪئی خواہشات ڪـو دبانا ہوگا اگر تم ایسا نہیں ڪرو گی تو تمہاری زندگی میں خوشیوں ڪـے پھول نہیں ڪھل سڪیں گے۔

بہت شڪریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: