شوہروں ڪــے لیــے نصیحتیں

امام احمد ابن حنبل رح کی اپنے بیٹے ڪـو خوشگوار ازدواجی زندگی ڪــے لیــے 9 قیمتی نصیحتیں امام احمد ابن حنبل رح نے اپنے صاحب زادے ڪـو شادی ڪـی رات 9 نصیحتیں فرمائیں.
ہر شادی شدہ مرد ڪـو چاہیے ڪہ ان ڪـو غور سے پڑھے اور اپنی زندگی میں عملی طور پر اختیار ڪرے.

میرے بیٹے، تم گھر ڪا سڪون حاصل نہیں ڪـر سڪتے جب تڪ ڪہ اپنی بیوی ڪـے معاملے میں ان ۱۰ عادتوں ڪـو نہ اپناؤ لہذا ان ڪـو غور سے سنو اور عمل کا ارادہ ڪرو.
عورتیں تمہاری توجہ چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں ڪہ تم ان سے واضح الفاظ میں محبت ڪا اظہار ڪـرتے رہو لہذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی ڪـو اپنی محبت ڪا احساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اس ڪـو بتاؤ ڪہ وہ تمہارے لیـے ڪس قدر اہم اور محبوب ھـــــے ( اس گمان میں نہ رہو ڪہ وہ خود سمجھ جائے گی، رشتوں ڪـو اظہار ڪـی ضرورت ہمیشہ رہتی ھـــــے) یاد رڪھو اگر تم نے اس اظہار میں ڪنجوسی سے ڪام لیا تو تم دونوں ڪـے درمیان ایڪ تلخ دراڑ آجائے گی جو وقت ڪـے ساتھ بڑھتی رہے گی اور محبت ڪـو ختم ڪـر دے گی. عورتوں ڪـو سخت مزاج اور ضرورت سے زیادہ محتاط مردوں سے ڪوفت(تھڪاوٹ) ہوتی ھـــــے اور وہ نرم مزاج مرد ڪـی نرمی ڪا بےجا فائدہ اٹھانا بھی جانتی ہیں لہذا ان دونوں صفات میں اعتدال سے کام لینا تاڪہ گھر میں توازن قائم رہے اور تم دونوں ڪـو ذہنی سڪون حاصل ہو. عورتیں اپنے شوہر سے وہی توقع رڪھتی ہیں جو شوہر اپنی بیوی سے رڪھتا ھـــــے یعنی عزت، محبت بھری باتیں، ظاہری جمال، صاف ستھرا لباس اور خوشبودار جسم لہذا ہمیشہ اس ڪا خیال رڪھنا. یاد رڪھو گھر ڪـی چار دیواری عورت ڪـی سلطنت ھـــــے جب وہ وہاں ہوتی ھـــــے تو گویا اپنی مملڪت ڪـے تخت پر بیٹھی ہوتی ھـــــے اس ڪـی اس سلطنت میں بےجا مداخلت ہرگز نہ ڪرنا اور اس ڪا تخت چھیننے ڪـی ڪوشش نہ ڪرنا، جس حد تڪ ممڪن ہو گھر ڪـے معاملات اس ڪـے سپرد ڪرنا اور اس میں تصرف( اپنی طرف سے ڪچھ شامل ڪرنا یا بنانا۔)

ڪـی اس ڪـو آزادی دینا. ہر بیوی اپنے شوہر سے محبت ڪرنا چاہتی ھـــــے لیڪن یاد رڪھو اس ڪـے اپنے ماں باپ بہن بھائی اور دیگر گھر والے بھی ہیں جن سے وہ لاتعلق نہیں ہو سڪتی اور نہ ہی اس سے ایسی توقع جائز ھـــــے لہذا ڪبھی بھی اپنے اور اس ڪـے گھر والوں ڪـے درمیان مقابلے ڪـی صورت پیدا نہ ہونے دینا ڪیونڪہ اگر اس نے مجبوراً تمہاری خاطر اپنے گھر والوں ڪـو چھوڑ بھی دیا تب بھی وہ بےچین رہے گی اور یہ بےچینی بالآخر تم سے اسے دور ڪـر دے گی. بلاشبہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ڪـی گئی ھـــــے اور اسی میں اس ڪا حسن بھی ھـــــے یہ ہرگز ڪـوئی نقص نہیں وہ ایسے ہی اچھی لگتی ھـــــے جس طرح بھنویں گولائی میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں لہذا اس ڪـے ٹیڑھپن سے فائدہ اٹھاؤ اور اس ڪـے اس حسن سے لطف اندوز ہو، اگر ڪبھی اس ڪـی ڪـوئی بات ناگوار بھی لگے تو اس ڪـے ساتھ سختی اور تلخی سے اس ڪـو سیدھا ڪرنے ڪـی ڪوشش نہ ڪرو ورنہ وہ ٹوٹ جائے گی اور اس ڪا ٹوٹنا بالآخر طلاق تڪ نوبت لے جائے گا، مگر اس ڪـے ساتھ ساتھ ایسا بھی نہ ڪرنا ڪہ اس ڪـی ہر غلط اور بےجا بات مانتے ہی چلے جاؤ ورنہ وہ مغرور ہو جائے گی جو اس ڪـے اپنے ہی لیـے نقصان دہ ھـــــے لہذا معتدل مزاج رہنا اور حڪمت سے معاملات ڪـو چلانا.

شوہر ڪـی ناقدری اور ناشڪری اڪثر عورتوں ڪـی فطرت میں ہوتی ھـــــے اگر ساری عمر بھی اس پر نوازشیں ڪـرتے رہو لیڪن ڪبھی ڪـوئی ڪمی رہ گئی تو وہ یہی ڪہے گی تم نے میری ڪونسی بات سنی ھـــــے آج تڪ، لہذا اس ڪـی اس فطرت سے زیادہ پریشان مت ہونا اور نہ ہی اس ڪـی وجہ سے اس سے محبت میں ڪمی ڪرنا، یہ ایڪ چھوٹا سا عیب ھـــــے اس کے اندر، لیڪن اس ڪـے مقابلے میں اس ڪـے اندر بے شمار خوبیاں بھی ہیں، بس تم ان پر نظر رڪھنا اور اللہ ڪـی بندی سمجھ ڪـر اس سے محبت ڪـرتے رہنا اور حقوق ادا ڪـرتے رہنا.
ہر عورت پر جسمانی ڪمزوری ڪـے ڪچھ ایام آتے ہیں ان ایام میں اللہ تعالٰی نے بھی اس ڪـو عبادات میں چھوٹ دی ھـــــے، اس ڪـی نمازیں معاف ڪـر دی ہیں اور اس ڪـو روزوں میں اس وقت تڪ تاخیر ڪـی اجازت دی ھـــــے جب تڪ وہ دوبارہ صحت یاب نہ ہو جائے ، بس ان ایام میں تم اس ڪـے ساتھ ویسے ہی مہربان رہنا جیسے اللہ تعالٰی نے اس پر مہربانی ڪـی ھـــــے، جس طرح اللہ نے اس پر سے عبادات ہٹالیں ویسے ہی تم بھی ان ایام میں اس ڪـی ڪمزوری ڪا لحاظ رڪھتے ہوئے اس ڪـی ذمہ داریوں میں ڪمی ڪـر دو، اس ڪـے ڪام ڪاج میں مدد ڪرادو اور اس ڪــے لیــے سہولت پیدا ڪرو. آخر میں بس یہ یاد رڪھو ڪہ تمہاری بیوی تمہارے پاس ایڪ قیدی ھـــــے جس ڪـے بارے میں اللہ تعالٰی تم سے سوال ڪرے گا۔ بس اس ڪـے ساتھ انتہائی رحم و ڪرم ڪا معاملہ ڪرنا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: