عــورت ڪا تنگ لباس پہننا حــرام ھـــــے

اس دور ڪـے حالات بہت حد تڪ بدل گئے ہیں۔ عورتوں ڪـی ایڪ بڑی تعداد نے اپنی حیا ڪـی چادر اتار پھینڪی ھـــــے۔ دینی حدود ڪـے معاملے میں یہ بڑی ڈھیٹ اور بے آبرو ہو رہی ہیں، بلڪہ مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔

اور خوف آتا ھـــــے ڪہ یہ قوم اپنی عریانی، بے پردگی اور آزاد روی ڪـی بنا پر اللہ ڪـی طرف سے ڪـسی بدترین سزا اور سابقہ قوموں ڪـے سے انجام سے دوچار نہ ہو جائے۔ انہوں نے ایسے لباس پہننے شروع ڪـر دیے ہیں جو ان ڪـے جسم ڪـے انگ انگ اور نشیب و فراز ڪـو ظاہر ڪـرتے ہیں، بازو، چھاتیاں، کمر اور سرین سب نمایاں ہوتی ہیں، اور جو ڪپڑے انہوں نے پہنے ہوئے ہوتے ہیں اس قدر باریڪ اور مہین ہوتے ہیں ڪہ ان سے ان کے جسم ڪـی رنگت تڪ جھلڪتی ھـــــے۔ بازو بہت مختصر اور تنگ بلڪہ نیچے سے پنڈلیاں تک ننگی ہوتی ہیں۔
اور یقینا یہ چیزیں انہیں فرنگیوں ڪـی تقلید اور پیروی سے ملی ہیں۔ یہ ڪیفیت انتہائی بے حیائی اور لوگ اس صورت حال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ان ڪا یہ طرز عمل اللہ ڪـی حدود میں مداہنت، اللہ ڪـی نافرمانی اور احمقوں ڪـی اطاعت ھـــــے۔ یہ خاموشی ڪس بڑی مصیبت ڪا پیش خیمہ اور ڪـسی بڑے شر و فساد ڪا دروازہ ڪھول سڪتی ھـــــے۔ تو ضروری ھـــــے ڪہ اس صورت حال ڪـی برائی اور حرمت واضح ڪـی جائے، انہیں ان کے غلط اقدامات سے باز رڪـھنے ڪـی بھرپور ڪوشش ڪـی جائے۔ عورت سرتاپا قابل ستر ھـــــے اور اس بات کی پابند ھـــــے ڪہ اپنے آپ ڪـو چھپائے اور پردہ ڪرے اور ڪـسی صورت بھی اپنے حسن و جمال، زیب و زینت، بناؤ سنگھار اور فتنہ بھرے جسم ڪـی نمائش نہ ڪرتی پھرے۔

اس حوالے سے اللہ سبحانہ و تعالٰی ڪا فرمان ھـــــے:- يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا {سورۃ الاحزاب آیت:59} ترجمہ:- ❞اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں ڪـی عورتوں سے فرمادو ڪہ اپنی چادروں ڪا ایڪ حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیڪ تر ھـــــے ڪہ ان ڪـی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ھـــــے،❝
لباس، بالخصوص عورت ڪا، ایسا ہونا چاہئے جو اس کے جسم کو پوری طرح چھپا لے۔ ڪپڑا موٹا ( اور ڪھلا ہونا) چاہئے ڪہ اس سے جسم ڪـے اعضاء ڪـی جسامت نمایاں نہ ہو۔ مسلمان عورت پابند ھـــــے ڪہ اپنے آپ ڪـو چھپائے اور پردہ ڪرے ڪیونڪہ وہ سراسر عورۃ ھـــــے یعنی ستر اور چھپانے ڪـی چیز ھـــــے۔ دعا ھـــــے ڪہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان ظاہر و پوشیدہ گمراہ ڪن فتنوں سے بچائے رڪھے۔ { آمین ثم آمین یا رب العالمین } پوسٹ اچھی لگے تو اسے شیئر ڪیجیئے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: