کچھ باتیں کام کی بھی

میں نے اپنی عمر بتائی اور ان کی پوچھی تو معلوم ہوا ۹۵ برس کے تھے اور ان کی والدہ کا انتقال ۱۰۵ برس کی عمر میں ہوا تھا.

میں نے زرا ہچکچاہٹ سے پوچھا کہ اچھی صحت کا راز تو بتائیں کہنے لگے !بس بیمار نہ پڑو؟میں نے کہا !یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں۔ھنستے ہوئے کہنے لگے بس کی بات ہے.میں نے کہا آپ بتائیں میں ضرور عمل کرونگا,میرے قریب آکر آہستہ سے کہنے لگے منہ میں کبھی کوئی چیز بسم اللّٰہ کے بغیر نہ ڈالنا چاہے پانی کا قطرہ ہو یا چنے کا دانہ؟میں خاموش سا ہوگیا.پھر کہنے لگے اللّٰہ نے کوئی چیز بے مقصد اور بلاوجہ نہیں بنائی ہر چیز میں ایک حکمت ہے اور اس میں فائدے اور نقصان دونوں پوشیدہ ہیں- جب ہم کوئی بھی چیز بسم اللّٰہ پڑھ کر منہ میں ڈالتے ہیں تو اللّٰہ اس میں سے نقصان نکال دیتا ہے-ہمیشہ بسم اللّٰہ پڑھ کر کھاؤ پیو اور دل میں بار بار خالق کا شکر ادا کرتے رہو اور جب ختم کرلو تو بھی ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کرو کبھی بیمار نہ پڑوگے- میری انکھیں تر ہوچکی ,دیر ہورہی تھی میں سلام کرکے اٹھنے لگا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے، کھانے کے حوالے سے آخری بات بھی سنتے جاؤ،میں جی کہہ کر پھر بیٹھ گیاکہنے لگے اگر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھا رہے ہو تو کبھی بھول کے بھی پہل نا کیا کرو چاہے کتنی ہی بھوک لگی ہو .

پہلے سامنے والے کی پلیٹ میں ڈالو اور وہ جب تک لقمہ اپنے منہ میں نہ رکھ لے تم نہ شروع کیاکرومیری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ اسکا فائدہ پوچھوں؟لیکن وہ خود ہی کہنے لگے یہ تمہارے کھانے کا صدقہ ادا ہوگیا اور ساتھ ہی اللّٰہ بھی راضی ہوا کہ تم نے پہلے اس کے بندے کا خیال کیا- یاد رکھو غذا جسم کی اور بسم اللّٰہ روح کی غذا ہے- اب بتاؤ کیا تم ایسے کھانے سے بیمار پڑ سکتے ہو؟میں بے اختہ ان کے چہرے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر تیزی سے جانے کے لئے مڑ گیا کہ دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہمُ اور ہماری اولاد کتنی محروم ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: