حضور ﷺ کی حضرت عائشہ سے محبت

مجھے عائشہ رضی اللہ عنھما سے بے پناہ محبت محسوس ہوتی ہے.. کس قدر حسین لگتی ہونگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑائی کر کے ناز اٹھواتی ہوئیں…
اور جب عائشہ رض کے خفا ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو مناتے ہونگے ہوائیں رک کر عائشہ رض کی قسمت پر رشک کرتی ہونگی…

ایک روایت میں ہے کہ جب کسی صحرا میں عائشہ رضہ گھوڑے پر سوار تھیں گھوڑے سے اترنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر حضرت عائشہ کو پاؤں اتارنے کے لیے اپنا گھٹنہ پیش کیا تھا… سبحان اللہ سبحان اللہ جنت میں سب سے پہلی فرمائش میں عائشہ ر ض سے یہی کروں گی میرے سامنے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنگ کر کے دکھائیں… دنیا کا سب سے حسین کپل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عائشہ رضی اللہ عنھما… میں سچی والا دل سے قربان… میں نے یہ روایت پہلے بھی پڑھی تھی۔ بہت بار پڑھی تھی ۔ مگر یہ معلوم نہ تھا کہ آدھی پڑھی تھی۔ آج پوری پڑھی ہے اور دل یوں محبت سے شرابور ہوا جا رہا ہے کہ یہ عرقِ شیریں سنبھالے میں نہیں آ رہا۔ مجبور ہو کے انگلیوں سے بہنے لگا ہے۔ حضرت صدیقؓ آئے تھے۔ اور دروازے ہی پہ رک گئے تھے۔ اندر سے بیٹی کی آواز آ رہی تھی۔ تیز تیز، زوردار، غصیلی۔ ناز میں پلی اولاد کا یہی مسئلہ ہوتا ہے۔ وہ ہر جگہ ناز ہی اٹھوانا چاہتی ہے۔ یہ بھی نہیں دیکھتی کہ سامنے وہ ہیں جن کے آگے اونچی آواز میں بولنے سے اعمال غارت ہو جاتے ہیں۔ مگر انہیں کیا۔ وہ عائشہؓ ہیں اور عائشہؓ کو ناز اٹھوانے ہی ہیں۔
حضرت صدیقؓ نے اجازت چاہی اور اجازت دے دی گئی۔ وہ اندر چلے آئے۔ شرمندگی اور غصے سے برا حال تھا۔ کہاں وہ کہ غارِ ثور میں بچھو کا ڈنک سہہ گئے تھے مگر ہلے تک نہ تھے کہ آقا کی نیند میں خلل نہ آئے۔

اور ایک ان کی بیٹی! جیسے چاہے بول لے! عائشہؓ کو دیکھا اور زور سے ڈپٹ دیا، “امِ رومان کی بیٹی! رسول الله صلی الله علیه وسلم سے ایسے بات کرتی ہو؟!” ہماری مائیں بھی ایسے ہی ڈانٹا کرتی ہیں، “بالکل باپ پہ گئی ہو۔” والد کو ہمیں کھری کھری سناتے وقت ہمارا ننھیال یاد آ جاتا ہے۔حضرت ابوبکرؓ کو بھی ڈانٹتے وقت ماں کی نسبت ساتھ لگانا اچھا لگا۔ یا شاید خیال یہ رہا ہو کہ تمہاری ماں تو یوں بات نہ کرتی تھی مگر خیر۔ ویسے مجھے یہ اچھا لگا۔ اپنے اپنے جیسے لوگ! رسول الله صلی الله عليه وسلم درمیان میں حائل ہو گئے اور حضرت صدیقؓ کو خاموش کروا دیا۔ جب ابوبکرؓ چل دیے تو رسول الله عائشہؓ سے کہنے لگے، “دیکھا! تمہیں کس نے بچایا اس آدمی سے؟” کوئی خود سے ناز نہیں اٹھوا لیتا۔ کوئی اٹھاتا ہے تو بات بنتی ہے۔ اگر رحمتِ عالم نے خود انہیں اتنا مقام دیا تھا کہ ابوبکرؓ و عمرؓ بھی ان کے حضور اونچا بولیں تو تنبیہہ میں قرآن کی آیات اترنے لگیں مگر صدیقہؓ جیسے چاہیں بات کریں، انہیں اس کے بعد بھی منایا ہی جائے گا۔ یہ ہیں وہ مرتبے جو میرے آقا نے بیویوں کو دیے ہیں، میرا کیوں نہ ان پہ دل آئے؟ میں نے یہاں تک تو روایت پڑھی تھی۔ مگر آج معلوم ہوا کہ آدھی پڑھی تھی۔ ابھی اس پھول میں مزید کچھ رس باقی تھا۔
کچھ دیر بعد صدیقؓ پھر آئے۔ اب وہاں ہنسی مذاق کا دور چل رہا تھا۔ اچھے لوگ تھے! وہ یوں لڑتے تھے! اور یوں مان جاتے تھے! خوبصورت، دل نشیں، دل ربا! صدیقؓ کہنے لگے، “یا رسول الله! جیسے آپ دونوں نے مجھے اپنی لڑائی میں شریک کیا تھا ویسے ہی اپنی صلح میں بھی کیجیے!” روئے زمین کی بالائی سے اتارے ہوئے لوگ! گل و ریشم کی تازگی سے نکھارے ہوئے لوگ! ایسے گھرانے اس زمین کے دامن پہ اب کہاں ملیں گے؟
بحوالہ: مسند احمد: 272/4، سنن ابی داؤد: 300/4 [اسناده صحيح لغيره و رجاله ثقات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: