امت مسلمہ ڪی حالت زار اور اہلِ دین ڪی ذمہ داری

آج عالم اسلام جس المناڪ صورتحال سے دوچار ھـــــے اس نے ہر دردمند مسلمان ڪـو بے چین و مضطرب ڪـر رڪھا ھـــــے اور بظاہر اس دلدل سے نڪلنے ڪـی ڪـوئی صورت بھی دڪھائی نہیں دے رہی۔

مقبوضہ ڪشمیر میں بھارتی سنگینوں ڪـے حصار میں نہتے عوام ظلم و تشدد ڪـے ایڪ اور دور سے گزر رہے ہیں، روہنگیا مسلمان اپنے وطن اراڪان (میانمار / برما) ڪـی شہریت سے محروم ہو ڪـر پڑوسی ممالڪ میں دربدر خاڪ چھاننے پر مجبور ہیں، فلسطینی مسلمان گزشتہ پون صدی سے اسرائیلی جارحیت ڪا سامنا ڪـر رہے ہیں اور اپنے وطن ڪـی آزادی اور خودمختاری ڪـی منزل سے ڪوسوں دور نظر آتے ہیں، شام اور یمن میں آپس ڪـی خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت نے شہریوں ڪـی زندگی اجیرن ڪـر رڪھی ھـــــے، سنڪیانگ کے مسلمانوں ڪـو اپنے اردگرد ڪـسی ڪـی طرف امید ڪـی نظر سے دیڪھنے ڪـی سہولت حاصل نہیں ھـــــے جبڪہ عراق، افغانستان اور لیبیا وغیرہ میں استعماری سازشیں عروج پر ہیں۔ مگر عالم اسلام ڪـی قیادتوں ڪـو اس طرف دیڪھنے ڪـی فرصت نہیں ھـــــے اور وہ اپنی ترجیحات اور مفادات ڪـی دنیا میں گم ہو ڪـر رہ گئی ہیں۔ امریڪہ بہادر افغانستان سے فوجیں نکال لینے کے ارادے ڪا اظہار ڪـرتے ہوئے بھی وہاں ڪـسی نہ ڪـسی صورت میں اپنی ٹانگ پھنسائے رڪـھنے کے جتن ڪـر رہا ھـــــے، اور اقوام متحدہ ڪشمیریوں ڪـے ساتھ استصواب رائے ڪرانے ڪا وعدہ دہراتے ہوئے بھی اس وعدہ ڪـی تڪمیل ڪـے لیـے ڪـسی پیشرفت پر آمادہ نہیں ھـــــے، جبڪہ امت مسلمہ حیرت و اضطراب ڪـے ساتھ اپنی قیادتوں ڪا منہ دیڪھ رہی ھـــــے۔

جناب نبی اڪرم صلی اللہ علیہ وسلم ڪا یہ ارشاد گرامی آج ہمارے سامنے ایڪ زندہ حقیقت ڪـی صورت میں جلوہ گر ھـــــے ڪہ ’’تداعت علیکم الامم تداع الاکلۃ علی قصعتھا‘‘ دنیا ڪـی قومیں تم مسلمانوں پر حملہ آور ہونے ڪـی ایڪ دوسرے ڪـو ایسے دعوت دیں گی جیسے تیار دسترخوان پر ڪـوئی میزبان اپنے مہمان ڪـو ڪھانے ڪـی دعوت دیتا ھـــــے۔ آج ہم مسلمان دنیا ڪـی قوموں ڪـے سامنے ’’تر لقمہ‘‘ ڪـی صورت میں بڪھرے پڑے ہیں اور استعماری عزائم رڪـھنے والی ہر قوم حسب استطاعت اپنا حصہ وصول ڪرنے میں مصروف ھـــــے۔ یقیناً یہ اس نوآبادیاتی دور ڪا منطقی نتیجہ ھـــــے جو مسلم ممالڪ و اقوام نے گزشتہ دو صدیوں ڪـے دوران مختلف آقاؤں ڪـی غلامی میں گزارا ھـــــے، اور اس دوران سب سے زیادہ زور مسلمانوں ڪـو ایمان و عقیدہ سے محروم ڪرنے، ان ڪـی تہذیبی و اخلاقی اقدار ڪـو ختم ڪرنے اور ان پر دین و ثقافت کے ذوق و احساس تڪ سے محروم قیادتیں مسلط ڪرنے پر رہا ھـــــے چنانچہ آج اسی نوعیت کی قیادتیں عالم اسلام ڪـی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور ہم آزاد ڪہلانے کے باوجود ’’ریموٹ کنٹرول غلامی‘‘ ڪـے حصار میں جڪڑے ہوئے ہیں۔

حج ڪـے موقع پر میدان عرفات میں اپنے خطبہ ڪـے دوران فضیلۃ الشیخ محمد بن حسن آل شیخ حفظہ اللہ تعالٰی نے اسی نکتہ کی طرف توجہ دلائی جو ہمارے خیال میں سب سے زیادہ قابل غور اور لائق توجہ ھـــــے ڪہ مسلمانوں ڪـو سیاسی قوت حاصل ڪرنے ڪـی ڪوشش ڪرنی چاہیے کیونڪہ اس ڪـے بغیر وہ اپنے مسائل و مشڪلات پر قابو پانے ڪـے لیـے ڪچھ نہیں ڪـر سڪیں گے۔ہماری سیاسی صورتحال یہ ھـــــے ڪہ ساٹھ ڪـے لگ بھگ حڪومتیں اور فوجیں رڪـھنے ڪـے باوجود ہم اپنے فیصلے خود ڪرنے ڪـی پوزیشن میں نہیں ہیں، ہمارے معاشی وسائل ہمارے ڪنٹرول میں نہیں ہیں، اور ہماری تہذیب و ثقافت مسلسل یلغار کی زد میں ھـــــے جس ڪـے باعث ہم اپنی نئی نسل ڪـے عقیدہ و ایمان ڪـے حوالہ سے بھی عدم تحفظ ڪا شڪار ہو چڪے ہیں، بلڪہ فڪری اور تہذیبی طور پر نئی نسل ہمارے ہاتھوں سے نڪلتی دڪھائی دے رہی ھـــــے۔ اس وقت سب سے زیادہ مشڪل صورتحال سے اہل دین دوچار ہیں جن ڪـے لیـے خدمات سرانجام دینے ڪا ڪام ڪٹھن سے ڪٹھن تر ہوتا جا رہا ھـــــے ڪہ دین ڪـی بات ڪرنا، ڪـسی دینی تقاضے ڪـی طرف حڪمرانوں ڪـو توجہ دلانا اور دینی اقدار و روایات ڪـے تحفظ ڪـی خاطر آواز اٹھانا بتدریج ’’جرم‘‘ سمجھا جانے لگا ھـــــے اور معاملہ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ڪـے اس ارشاد گرامی ڪـی طرف بڑھتا دڪھائی دے رہا ھـــــے ڪہ دین ڪـی بات ڪرنا ’’ ڪالقابض علی الجمر‘‘ جلتے انگارے ڪـو ہاتھ میں لینے ڪـے مترادف ہو جائے گا۔

مگر ان حالات میں سب سے زیادہ ذمہ داری بھی اہل دین ہی کی بنتی ھـــــے ڪہ مایوسی ڪـی دلدل میں دھنستی چلے جانے والی امت ڪا عالم اسباب میں آخری سہارا بہرحال وہی ہیں اور جو بھی ڪرنا ھـــــے انہوں نے ہی ڪرنا ھـــــے۔بحمد اللہ تعالٰی ہمارے پاس اکابر ڪـی جدوجہد ڪا تسلسل موجود ھـــــے، ان ڪـی روایات ڪا اثاثہ محفوظ ھـــــے اور قرآن و سنت ڪـے ساتھ ساتھ فقہی احڪام و قوانین ڪا ذخیرہ ہمارے سامنے ھـــــے، ہمیں نہ صرف خود ڪـو اس سنگین صورتحال میں امت ڪـی راہنمائی اور قیادت ڪـے لیـے مستعد رڪھنا ھـــــے بلڪہ نئی نسل ڪـو بھی اس ڪـے لیـے تیار ڪرنا ھـــــے اور اپنے علمی، دینی اور روحانی ماضی ڪـے ساتھ وابستگی ڪـو مستحکم رڪھتے ہوئے ’’رجوع اللہ‘‘ ڪا بطور خاص اہتمام ڪرنا ھـــــے ڪیونڪہ اصل قوت وہی ھـــــے اور فیصلے وہیں ہوتے ہیں اللہ سبحان و تعالٰی اہل دین ڪـے تمام طبقوں ڪـو اس نازڪ وقت میں اپنے اپنے فرائض صحیح طور پر سرانجام دیتے رہنے ڪـی توفیق سے نوازیں آمین یا رب العالمین…

پوسٹ اچھی لگے تو اسے شیئر ڪیجیئے
بہت شڪریہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: